أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الأَنْصَارِيِّ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الأَنْصَارِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ قَالَ: «لِمَ» ؟ قَالَ: نَهَانَا اللَّهُ أَنْ نُحِبَّ أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَأَنَا امْرُؤٌ أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَانَا عَنِ الْخُيَلاءِ، وَأَنَا امْرُؤٌ أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَانَا اللَّهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا رَجُلٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا ثَابِتُ، أَمَا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ»
اسماعیل بن محمد انصاری بیان کرتے ہیں کہ ثابت بن قیس بن شماس (رض) نی کہا یا رسول اللہ مجھے ڈر ہے کہ میں ہلاک نہ ہوجاؤں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ وہ کیوں ؟ ثابت کہنے لگے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع کیا ہے۔ کہ ہم اس کا کام پر تعریف کو پسند نہ کریں۔ جو ہم نے نہ کیا ہو۔ اور میں ایک ایسا انسان ہوں کہ میں تعریف کو پسند کرتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نی ہمیں فخر سے روکا ہے۔ اور مجھے حسن پسند ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں منع فرمایا ہے کہ آپ کی مبارک آواز سے اپنی آواز بلند نہ کریں۔۔ اور میں بلند آواز والا انسان ہوں۔ جس کی آواز بلند ہے۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ اے ثابت ! کیا تو پسند نہیں کرتا کہ تو اس طرح زندہ رہے ۔ کہ تیری تعریف ہو۔ اور تو قتل کیا جائے تو شہادت کا درجہ پائے اور جنت میں داخلہ نصیب ہو۔