hadith book logo

Muawtta Imam Muhammad: Hadith 955

.

موطأ الامام محمد

955
Muawtta Imam Muhammad
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيَّادٍ، أَنَّ الْمُطَّلِبَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ الْمَخْزُومِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلا " سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا الْغِيبَةُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْ تَذْكُرَ مِنَ الْمَرْءِ مَا يَكْرَهُ أَنْ يَسْمَعَ» ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنْ كَانَ حَقًّا؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا قُلْتَ بَاطِلا فَذَلِكَ الْبُهْتَانُ» . قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا يَنْبَغِي أَنْ يَذْكُرَ لأَخِيهِ الْمُسْلِمِ الزَّلَّةَ تَكُونُ مِنْهُ مِمَّا يَكْرَهُ، فَأَمَّا صَاحِبُ الْهَوَى الْمُتَعَالِنُ بِهَوَاهُ الْمُتَعَرِّفُ بِهِ، وَالْفَاسِقُ الْمُتَعَالِنُ بِفِسْقِهِ، فَلا بَأْسَ، أَنْ تَذْكُرَ هَذَيْنِ بِفِعْلِهِمَا. فَإِذَا ذَكَرْتَ مِنَ الْمُسْلِمِ مَا لَيْسَ فِيهِ، فَهُوَ الْبُهْتَانُ، وَهُوَ الْكَذِبُ
ولید بن عبداللہ بن صیاد نے بیان کیا کہ مجھے مطلب بن عبداللہ المخزومی (رض) نے بیان کیا۔ کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دریافت کیا کہ غیبت کیا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ تم کسی شخص کے متعلق ایسی بات کہو کہ اگر وہ سن پائے تو اسے ناپسند لگے۔ اس نے سوال کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگرچہ وہ سچی بات ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اکر تم نے جھوٹی بات کہی تو یہ بہتا ن ہے۔ (اس روایت کو امام مالک (رح) نے باب ما جاء فی الغیبۃ میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ مناسب نہیں کہ مسلمان بھائی کی کسی ایسی لغزشوں کو بیان کیا جائے۔ جو اسے ناگوار ہوں۔ لیکن خواہشات کا غلام جو اتباع خواہشات میں معروف ہو۔ اور وہ بدکار جو علانیہ برائی کا ارتکاب کرنے والا ہو تو ان دونوں کے برے افعال بیان کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر کسی مسلمان کے متعلق ایسی بات بیان کرے جو اس میں پائی نہیں جاتی تو یہ بہتان اور جھوٹ ہے۔