أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أَغْلِقُوا الْبَابَ، وَأَوْكُوا السِّقَاءَ، وَأَكْفِئُوا الإِنَاءَ، أَوْ خَمِّرُوا الإِنَاءَ، وَأَطْفِئُوا الْمِصْبَاحَ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لا يَفْتَحُ غَلَقًا، وَلا يَحُلُّ وِكَاءً، وَلا يَكْشِفُ إِنَاءً، وَإِنَّ الْفُوَيْسِقَةَ تُضْرِمُ عَلَى النَّاسِ بَيْتَهُمْ»
ابو الزبیر مکی نے جابر بن عبداللہ (رض) سے بیان کیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا (١) رات کو دروازے بند کرلیا کرو۔ (٢) مشکیزہ کا مہ باندھ دیا کرو۔ (٣) برتنوں کو ڈھانپ کر رکھا کرو۔ برتن کو کپڑے سے ڈھانپو ( کا لفظ فرمایا۔ (٤) چراغ گل کردیا کر۔ اس لیے کہ شیطان بند دروازہ نہیں کھولتا اور نہ بند کی ہوئی مشک ( کھولتا ہے) اور نہ ڈھانپے برتن کو ننگا کرتا ہے اور چوہیا لوگ ’ ن کے گھروں کو آگ لگا دیتی ہے ( کہ چراغ کی بتی منہ میں پکڑ کر بھاگ نکلے جس کپڑے وغیرہ کے پاس سے گزرے گی آگ لگ جائے گی) (اس روایت کو باب جامع ما جاء فی الطعام و الشراب میں ذکر کیا گیا ہے)