أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: حَجَمَ أَبُو طَيْبَةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، «فَأَعْطَاهُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَأَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ خَرَاجِهِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، لا بَأْسَ أَنْ يُعْطَى الْحَجَّامُ أَجْرًا عَلَى حِجَامَتِهِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ
حمید طویل نے انس بن مالک (رض) نے نقل کیا کہ ابو طیبہ حجام نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پچھنے لگائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک صاع کھجور دی۔ اور اس کے مالک کو حکم دیا کہ اس کے خراج میں کمی کردو ( معلو ہوتا ہے کہ ابو طیبہ ذمی غلام تھا) اس روایت کو امام مالک (رح) باب ما جاء فی الحجامۃ و اجر الحجام میں ذکر کیا ہے)
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں کہ سینگی لگانے والے کو اس کی اجرت دینے میں کوئی حرج نہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔