أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، أَخْبَرَنَا نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: «الْمَمْلُوكُ وَمَالُهُ لِسَيِّدِهِ، وَلا يَصْلُحُ لِلْمَمْلُوكِ أَنْ يُنْفِقَ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا بِغَيْرِ إِذْن سَيِّدِهِ إِلا أَنْ يَأْكُلَ، أَوْ يَكْتَسِيَ، أَوْ يُنْفِقَ بِالْمَعْرُوفِ» .
قَالَ مُحَمَّدٌ: وَبِهَذَا نَأْخُذُ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ إِلا أَنَّهُ يُرَخَّصُ لَهُ فِي الطَّعَامِ الَّذِي يُوَكَّلُ أَنْ يُطْعِمَ مِنْهُ، وَفِي عَارِيَةِ الدَّابَّةِ، وَنَحْوِهَا، فَأَمَّا هِبَةُ دِرْهَمٍ وَدِينَارٍ، أَوْ كِسْوَةُ ثَوْبٍ فَلا.
وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ
نافع (رح) بیان کرتے ہیں کہ اللہ عبداللہ بن عمر (رض) نے فرمایا غلام اور اس کا مال اس کے مالک کا ہے۔ غلام کے لیے جائز نہیں اس کے آقا کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے کچھ خرچ کرے۔ سوائے اس کے کہ کھائے، پہنے، اور جائز طریقہ سے خرچ کرے۔
قول محمد (رح) یہ ہے : کہ ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں۔ یہی امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے۔ مگر یہ کہ کھانے کی اشیاء میں سے کسی کو کھلائے یا کسی کو سواری یا اس قسم کی چیز عاریۃ دے۔ البتہ روپیہ پیسہ یا لباس کسی کو ہبہ کرنا جائز نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کا یہی قول ہے۔