۱۱۱۰ : قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا مُعَلّٰی وَأَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَضَرِیُّ، قَالَا ثَنَا وُہَیْبٌ، عَنْ أَبِیْ وَاقِدٍ قَالَ : ثَنَا (أَبُوْ أَرْوَی، قَالَ کُنْتُ أُصَلِّی الْعَصْرَ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَمْشِی إِلٰی ذِی الْحُلَیْفَۃِ، فَآتِیْہِمْ قَبْلَ أَنْ تَغِیْبَ الشَّمْسُ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ کَانَ یَأْتِیْہَا مَاشِیًا .وَأَمَّا قَوْلُہٗ (قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ) فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ وَقَدْ اصْفَرَّتِ الشَّمْسُ، وَلَمْ یَبْقَ مِنْہَا إِلَّا أَقَلُّ الْقَلِیْلِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ، نَحْوٌ مِنْ ذٰلِکَ .
١١١٠: وہیب نے ابو واقد سے اور اس نے ابو ارویٰ (رض) سے نقل کیا کہ میں عصر کی نماز جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد نبوی میں پڑھتا پھر میں پیدل ذوالحلیفہ آتا اور میں غروب آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ وہ سورج غروب ہونے سے پہلے پیدل چل کر آتے تو اس میں یہ کہنا درست ہے کہ اس وقت ممکن ہے تھوڑا سا وقت باقی ہو اور سورج زرد ہوچکا ہو۔ چنانچہ یہ روایت ہماری مؤید ہے۔
تخریج : ملمعجم الکبیر ٢٢؍٣٦٩‘ مسند احمد ٤؍٣٣٤‘ مجمع الزوائد ١؍٤٨۔
حاصل روایات : اور روایت ابی مسعود (رض) اس کی تائید کرتی ہے کہ یہی معنی ہے۔