hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 1111

.

الطحاوي

1111
Al Tahawi
۱۱۱۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ صَالِحٍ، قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبٍ، عَنْ أُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ شِہَابٍ، قَالَ : سَمِعْتُ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یَقُوْلُ، أَخْبَرَنِیْ بَشِیْرُ بْنُ أَبِیْ مَسْعُوْدٍ، عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی صَلَاۃَ الْعَصْرِ، وَالشَّمْسُ بَیْضَائُ مُرْتَفِعَۃٌ، یَسِیْرُ الرَّجُلُ حِیْنَ یَنْصَرِفُ مِنْہَا إِلٰی ذِی الْحُلَیْفَۃِ سِتَّۃَ أَمْیَالٍ، قَبْلَ غُرُوْبِ الشَّمْسِ) .فَقَدْ وَافَقَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ أَیْضًا حَدِیْثُ أَبِیْ أَرْوَی، وَزَادَ فِیْہِ أَنَّہٗ کَانَ یُصَلِّیْہَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَۃٌ، فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ قَدْ کَانَ یُؤَخِّرُہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلٰی ھٰذَا۔
١١١١: عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ مجھے بشیر بن ابی مسعود (رض) نے اپنے والد ابو مسعود (رض) سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز ادا فرماتے اس حال میں کہ سورج سفید بلند ہوتا نماز سے فارغ ہو کر آدمی ذوالحلیفہ تک چلا جاتا جو کہ چھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے اور سورج ابھی غروب نہ ہو پاتا۔ یہ روایت بھی ابوعروہ والی روایت کے موافق ہے اور اس میں اس بات کا اضافہ ہے کہ وہ عصر کی نماز ایسی حالت میں پڑھ لیتے جبکہ سورج ابھی بلند ہوتا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اس کو مؤخر فرماتے اور حضرت انس (رض) سے بھی اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصلاۃ باب ٢‘ نمبر ٣٩٤۔
حاصل روایت یہ ہے کہ یہ حدیث ابی ارویٰ (رض) کے موافق ہے اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ نماز سے فارغ ہوتے اس وقت سورج ابھی بلند ہوتا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ نماز کو مؤخر کرتے اور یہ دلیل اس طرح ہی بنے گی کہ جب ان کی قوت رفتار کو زیادہ تسلیم کیا جائے۔ حضرت انس بن مالک (رض) کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔