۱۷۶۱: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ، قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ عُمَرَ، قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ أَبِیْ لَبِیْدٍ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (أَنَّ مُعَاوِیَۃَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ، قَالَ وَہُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ لِکَثِیْرِ بْنِ الصَّلْتِ اذْہَبْ إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَاسْأَلْہَا عَنْ رَکْعَتَیَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الْعَصْرِ، قَالَ أَبُوْ سَلَمَۃَ : فَقُمْتُ مَعَہٗ، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ : اذْہَبْ مَعَہٗ، فَجِئْنَاہَا فَسَأَلْنَاہَا فَقَالَتْ: لَا أَدْرِیْ سَلُوْا أُمَّ سَلَمَۃَ فَسَأَلْنَاہَا : فَقَالَتْ دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ مَا کُنْتَ تُصَلِّی ہَاتَیْنِ الرَّکْعَتَیْنِ؟ فَقَالَ : قَدِمَ عَلَیَّ وَفْدٌ مِنْ بَنِی تَمِیْمٍ أَوْ جَائَ تْنِی صَدَقَۃٌ فَشَغَلُوْنِیْ عَنْ رَکْعَتَیْنِ کُنْتُ أُصَلِّیْہِمَا بَعْدَ الظُّہْرِ وَہُمَا ہَاتَانِ) .
١٧٦١: ابو سلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رض) نے کثیر بن صلت کو منبر پر فرمایا تم حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں جاؤ اور ان سے عصر کے بعد ان دو رکعتوں کے متعلق پوچھو جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پڑھا کرتے تھے ابو سلمہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے عبداللہ بن الحارث کو کہا کہ تم بھی اس کے ساتھ جاؤ پس ہم ان کی خدمت میں پہنچے اور ان سے ان کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا تم امّ سلمہ سے دریافت کرو۔ چنانچہ ہم نے ان سے دریافت کیا تو وہ کہنے لگیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں ایک دن تشریف لائے یہ عصر کے بعد کا وقت تھا آپ نے دو رکعت نماز ادا فرمائی میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ یہ رکعتیں پہلے تو نہ پڑھتے تھے آپ نے فرمایا میرے پاس بنو تمیم کا وفد آگیا یا صدقہ آگیا پس انھوں نے ظہر کے بعد ان کے پڑھنے سے مجھے مشغول کردیا اور یہ وہ دونوں رکعتیں ہیں۔
تخریج : ابن ماجہ فی الاقامہ باب ١٠٧‘ نمبر ١١٥٩۔