۲۵۶۵: مَا قَدْ حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبِیْ قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ سُفْیَانَ‘ قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرًا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُوْلُ : مَا أُحِبُّ أَنْ أُسَلِّمَ عَلَی الرَّجُلِ وَہُوَ یُصَلِّیْ‘ وَلَوْ سَلَّمَ عَلَیَّ لَرَدَدْتُ عَلَیْہِ .
٢٥٦٥: ابو سفیان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر (رض) کو فرماتے سنا میں نماز پڑھنے والے کو سلام کرنا پسند نہیں کرتا اور اگر وہ مجھے سلام کرتا تو میں اس کو لوٹا دیتا (یعنی منع کردیتا ہوں) یہ جابر بن عبداللہ (رض) ہیں کہ نمازی کو سلام کرنا مکروہ قرار دے رہے ہیں۔ جبکہ انھوں نے خود جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نماز کی حالت میں سلام کیا تھا اور آپ نے ان کو اشارہ فرمایا۔ اگر جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے کیا جانے والا اشارہ سلام کا جواب ہوتا تو جابر (رض) کبھی اس کو مکروہ قرار نہ دیتے ‘ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو منع نہیں کیا ‘ لیکن آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔ آپ کا اس وقت اشارہ نمازی کو سلام کرنے کی ممانعت تھی۔ اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ جابر (رض) نے تو اپنی اس روایت میں فرمایا اگر کوئی مجھے سلام کرے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ تو اس کے جواب میں اس طرح کہیں گے۔ کیا جابر (رض) نے یہ کہا کہ میں نماز میں جواب دوں گا۔ تو اس کے متعلق یہ کہنا درست ہوگیا کہ میں نماز سے فراغت کے بعد سلام کا جواب دیتا ہوں اور ان کا طریق اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ روایت ذیل میں ہے۔