۲۷۸۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِیَادٍ‘ قَالَ : ثَنَا الشَّیْبَانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا عَامِرٌ‘ عَنْ عَلْقَمَۃَ أَنَّہٗ ذَکَرَ ذٰلِکَ لِعَبْدِ اللّٰہِ‘ فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ (اِذَا تَقَدَّمَ الْاِمَامُ فَکَبِّرُوْا بِمَا کَبَّرَ‘ فَإِنَّہٗ لَا وَقْتَ وَلَا عَدَدَ) .وَھٰذَا - عِنْدَنَا - مَعْنَاہُ مَا ذَکَرْنَا أَیْضًا‘ لِأَنَّ الْاِمَامَ قَدْ یُصَلِّیْ حِیْنَئِذٍ عَلَی الْبَدْرِیِّیْنَ وَعَلٰی غَیْرِہِمْ .فَإِنْ صَلّٰی عَلَی الْبَدْرِیِّیْنَ فَکَبَّرَ عَلَیْہِمْ کَمَا یُکَبِّرُ عَلَی الْبَدْرِیِّیْنَ‘ وَذٰلِکَ مَا فَوْقَ الْأَرْبَعِ‘ فَکَبَّرُوْا مَا کَبَّرَ .وَإِنْ صَلّٰی عَلٰی غَیْرِ الْبَدْرِیِّیْنَ‘ فَکَبَّرَ أَرْبَعًا کَمَا یُکَبِّرُ عَلَیْہِمْ‘ فَکَبَّرُوْا کَمَا کَبَّرَ‘ لَا وَقْتَ وَلَا عَدَدَ فِی التَّکْبِیْرِ فِی الصَّلَاۃِ عَلٰی جَمِیْعِ النَّاسِ مِنَ الْبَدْرِیِّیْنَ وَغَیْرِہِمْ‘ لَا یُجَاوَزُ ذٰلِکَ إِلٰی مَا ہُوَ أَکْبَرُ مِنْہُ .وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثُ أَیْضًا‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بِغَیْرِ ھٰذَا اللَّفْظِ .
٢٧٨١: عامر نے علقمہ بن قیس سے نقل کیا کہ میں نے یہ بات عبداللہ (رض) کو بتلائی تو انھوں نے فرمایا جب کوئی دوسرا امامت کرائے تو جتنی تکبیرات وہ کہے اتنی تم کہو کیونکہ لاوقت ولاعدد۔ اس کا وقت و عدد متعین نہیں مطلب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ امام بدریین پر نماز پڑھ رہا ہو اور ان کی وجہ سے تکبیرات میں اضافہ نو تک درست ہے تو تم بھی اقتداء میں اتنی تکبیرات سے جنازہ ادا کرو یا غیر بدری صحابہ کرام پر نماز پڑھ رہا ہو تو وہ چار پڑھے تو جتنی تکبیرات وہ کہے تم اتنی کہو اس نماز کا کوئی وقت متعین نہیں اور تمام لوگ خواہ وہ بدری ہوں یا غیر بدری ان میں تکبیر کی کوئی ایسی تعداد نہیں کہ جس سے دوسرے کی طرف تجاوز نہ ہو سکے بلکہ بدریین میں دوسروں کی بنسبت زیادہ پڑھی جائیں گی۔
یہی روایت ایک اور سند اور متن کے ساتھ۔