۲۹۴۶ : مَا قَدْ حَدَّثَنَا أَبُوْ أُمَیَّۃَ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مُجَالِدٌ‘ عَنِ الشَّعْبِیِّ‘ عَنْ وَہْبٍ‘ قَالَ : (جَائَ رَجُلٌ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ وَاقِفٌ بِعَرَفَۃَ‘ فَسَأَلَہٗ رِدَائَ ہٗ‘ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہٗ، فَذَہَبَ بِہٖ، ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ لَا تَحِلُّ إِلَّا مِنْ مُدْقِعٍ أَوْ غُرْمٍ مُفْظِعٍ‘ وَمَنْ سَأَلَ النَّاسَ لِیُثْرِیَ بِہٖ لَہٗ‘ فَإِنَّہٗ خُمُوشٌ فِیْ وَجْہِہٖ‘ وَرَضْفٌ یَأْکُلُہٗ مِنْ جَہَنَّمَ‘ إِنْ قَلِیْلًا فَقَلِیْلٌ‘ وَإِنْ کَثِیْرًا فَکَثِیْرٌ) .فَأَخْبَرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ الْمَسْأَلَۃَ تَحِلُّ بِالْفَقْرِ‘ وَالْغُرْمِ‘ فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہَا تَحِلُّ بِہٰذَیْنِ الْمَعْنَیَیْنِ خَاصَّۃً‘ وَلَا یَخْتَلِفُ فِیْ ذٰلِکَ الزَّمِنُ وَلَا غَیْرُہٗ۔
٢٩٤٦: شعبی نے وہب (رض) سے نقل کیا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا جبکہ آپ عرفات میں وقوف فرما رہے تھے اس نے آپ سے اوڑھنے والی چادر مانگی آپ نے اس کو عنایت فرما دی وہ لے کر چلا گیا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ سوال۔ اس روایت میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خبردی کہ فقر و احتیاج کی وجہ سے سوال کیا جائز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح تو یہ اس بات کا ثبوت ہے۔ کہ ان دو حالتوں میں خصوصًا سوال درست و حلال ہوجاتا ہے اس میں معذوری وغیرہ کا فرق نہیں ہے۔ مزید روایات ذیل میں ہیں۔
نمبر 1: شدید فقر جو ہلاک کن ہو۔
نمبر 2: رسوا کن چٹی کی صورت میں درست ہے۔ جس نے مالدار بننے کے لیے سوال کیا وہ اس کے چہرے پر خراش ہوگا۔ اور جہنم کا گرم پتھر ہوگا جس کو وہ کھائے گا اگر تھوڑا ہوگا تو تھوڑا اور زیادہ سوال ہوگا تو زیادہ گرم پتھر کھانا پڑے گا۔
تخریج : ترمذی فی الزکوۃ باب ٢٣‘ نمبر ٦٥٣‘۔
لغات : الرضف۔ گرم پتھر۔ مدقع ذلیل کرنے والا۔ مفظع۔ رسوا کن۔ ثری۔ یثری۔ مالدار ہونا۔
حاصل روایات : اس روایت سے معلوم ہوا کہ سوال فقر سے درست ہوتا ہے یا چٹی پڑجانے سے جائز ہے یہ کھلی دلیل ہے کہ یہ حلت ان اسباب کی بناء پر ہے اس میں معذور و اپاہج ہونے یا صحت مند ہونے کا دخل نہیں۔