۳۲۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا حُمَیْدُ ڑ الصَّائِغُ قَالَ : ثَنَا حَبِیْبُ بْنُ شِہَابٍ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : سَأَلْتُ أَبَا ہُرَیْرَۃَ مَا یُوْجِبُ الْغُسْلَ .فَقَالَ : اِذَا غَابَتَ الْمُدَوَّرَۃُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا قَدْ ذَکَرْنَاہُ عَنْہُ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ ، مَا یُخَالِفُ ذٰلِکَ ، فَھٰذَا أَیْضًا دَلِیْلٌ عَلَیْ نَسْخِ ذٰلِکَ .
٣٢٢: شہاب کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے سوال کیا کہ کیا چیز مرد و عورت پر غسل کو واجب کرتی ہے ؟ تو انھوں نے فرمایا جب حشفہ غائب ہوجائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایسی روایات بھی وارد ہیں جو ان روایات کے مخالف ہیں جو ہم نے اس باب میں ذکر کی ہیں۔ پس یہ بھی ان کے نسخ کی دلیل ہے۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٦
روایت ٣٠٣ کے نسخ کی دلیل :
یہ ابوہریرہ (رض) ہیں جو پہلے وہ نقل کر رہے ہیں اور پھر یہ فتویٰ اس کے خلاف جاری کر رہے ہیں جو کہ پہلے حکم کے منسوخ ہونے کی دلیل ہے۔