hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3324

.

الطحاوي

3324
Al Tahawi
۳۳۲۴ : وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : أَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُقَیْلٌ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ ثَعْلَبَۃَ بْنِ صُعَیْرٍ الْعُذْرِیِّ ہٰکَذَا قَالَ ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ- وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ مَسَحَ وَجْہَہٗ- أَنَّہٗ أَخْبَرَہٗ أَنَّہٗ سَمِعَ أَصْحَابَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَوْنَ الصَّائِمَ عَنِ الْقُبْلَۃِ وَیَقُوْلُوْنَ إِنَّہَا تَجُرُّ إِلٰی مَا ہُوَ أَکْبَرُ مِنْہَا فَقَدْ بَیَّنَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ کَرِہَہَا مَنْ کَرِہَہَا لِلصَّائِمِ وَأَنَّہٗ إِنَّمَا ہُوَ خَوْفُہُمْ عَلَیْہِ مِنْہَا أَنْ یَجُرَّہٗ إِلٰی مَا ہُوَ أَکْبَرُ مِنْہَا فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ اِذَا ارْتَفَعَ ذٰلِکَ الْمَعْنَی الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ مَنَعُوْہُ مِنْہَا أَنَّہَا لَہٗ مُبَاحَۃٌ .
٣٣٢٤: ابن شہاب نے ثعلبہ بن صعیر عذری سے نقل کیا ابن ابی مریم نے اس طرح کہا ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے چہرے پر مسح کیا تھا اور اس نے بتلایا کہ میں نے اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے کہ وہ روزہ دار کو بوسہ سے منع کرتے تھے اور کہتے یہ چیز اس سے بڑے فعل کی طرف کھینچ کرلے جانے والی ہے۔ اس روایت میں اس مطلب کو واضح طور پر ذکر کردیا گیا جس کی بناء پر بوسے کو روزہ دار کے لیے منع کیا گیا اور جن کے لیے ناپسند کیا گیا وہ اس بات کا خوف ہے کہ یہ بوسہ ان کو اس سے بڑی بات میں مبتلا نہ کردے ۔ اس سے یہ دلیل مل گئی کہ جب بات نہ پائی جاتی ہو تو وہ بوسہ اس کے لیے مباح ہوگا۔
حاصل روایات : اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ ممانعت کی وجہ اور کراہت کی وجہ حرمت نہیں بلکہ اس کی وجہ روزہ دار کا اس کی وجہ سے اس سے بڑے فعل میں ابتلاء کا خطرہ ہے یہ اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ جس میں یہ وجہ نہ پائی جائے اس پر ممانعت کا حکم نہ لگے گا بلکہ اس کے لیے مباح ہوگا۔