۳۳۷۶ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ قَالَ : أَنَا دَاوٗدَ بْنُ أَبِیْ ہِنْدٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَخِیْہِ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہٗ کَانَ یَصُوْمُ وَلَا یُفْطِرُ فَدَخَلَ عَلٰی أَبِیْہِ یَوْمًا وَہُوَ مُفْطِرٌ فَقَالَ لَہٗ : مَا شَأْنُکَ الْیَوْمَ مُفْطِرًا ؟ قَالَ : إِنِّیْ أَصَابَتْنِیْ جَنَابَۃٌ فَلَمْ أَغْتَسِلْ حَتّٰی أَصْبَحْتُ فَأَفْتَانِیْ أَبُوْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْ أُفْطِرَ فَأَرْسَلُوْا إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا یَسْأَلُوْنَہَا فَقَالَتْ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تُصِیْبُہٗ الْجَنَابَۃُ فَیَغْتَسِلُ بَعْدَمَا یُصْبِحُ ثُمَّ یَخْرُجُ وَرَأْسُہٗ یَقْطُرُ مَائً فَیُصَلِّیْ لِأَصْحَابِہِ ثُمَّ یَصُوْمُ ذٰلِکَ الْیَوْمَ) .
٣٣٧٦: عمر بن عبدالرحمن نے اپنے بھائی ابوبکر بن عبدالرحمن کے متعلق نقل کیا کہ وہ مسلسل روزہ رکھتے اور افطار نہ کرے ایک دن وہ اپنے والد کی خدمت میں گئے اور انھوں نے روزہ نہیں رکھا تھا تو ابوبکر نے کہا کیا معاملہ ہے کہ تم نے آج روزہ نہیں رکھا ؟ وہ کہنے لگے مجھے جنابت کی حالت نے آلیا اور میں غسل نہ کرسکا یہاں تک کہ پو پھوٹ پڑی اور مجھے ابوہریرہ (رض) نے فتویٰ دیا کہ میں روزہ نہیں رکھ سکتا۔
سب نے حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں آدمی بھیجا ان سے مسئلہ پوچھا تو انھوں نے فرمایا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنابت کی حالت پیش آئی پھر آپ صبح کے طلوع ہونے کے بعد غسل فرماتے پھر نماز کے لیے اس حال میں نکلتے کہ آپ کے سر مبارک سے غسل کے پانی کے قطرات ٹپک رہے ہوتے تھے اور آپ اپنے صحابہ کرام کو نماز فجر پڑھاتے پھر اس دن کا روزہ بھی رکھ لیتے۔