۳۷۳۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ وَہْبٍ‘ (عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ قَتَادَۃَ‘ عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ کَانَ فِیْ قَوْمٍ مُحْرِمِیْنَ‘ وَلَیْسَ ہُوَ مُحْرِمًا وَہُمْ یَسِیْرُوْنَ‘ فَرَأٰی حِمَارًا‘ فَرَکِبَ فَرَسَہٗ فَصَرَعَہٗ‘ فَأَتَوا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلُوْہُ عَنْ ذٰلِکَ فَقَالَ أَشَرْتُمْ أَوْ صِدْتُمْ أَوْ قَتَلْتُمْ ؟ قَالُوْا : لَا‘ قَالَ فَکُلُوْا) .
٣٧٣٠: عبداللہ بن ابو قتادہ نے اپنے والد ابو قتادہ (رض) سے بیان کیا کہ میں محرمین کے ساتھ چل رہا تھا اور احرام باندھے ہوئے نہیں تھا۔ ہم چلے جا رہے تھے ابو قتادہ نے ایک حمار وحشی دیکھا وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور اسے شکار کر لائے صحابہ کرام اس کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں لائے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا تم نے اشارہ کیا یا شکار کیا یا قتل کیا ؟ انھوں نے کہا۔ نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پس اس کو کھاؤ۔
تخریج : مسلم فی الحج ٦١‘ نسائی فی المناسک باب ٨١‘ دارمی فی المناسک باب ٢٢‘ مسند احمد ٥؍٣٠٢۔