۳۷۵۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُضَیْرٍ قَالَ : ثَنَا فِطْرُ بْنُ خَلِیْفَۃَ‘ عَنْ (أَبِی الطُّفَیْلِ قَالَ : قُلْت لِابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا زَعَمَ قَوْمُک أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَمَلَ بِالْبَیْتِ وَأَنَّہَا سُنَّۃٌ قَالَ : صَدَقُوْا وَکَذَبُوْا‘ قَدْ رَمَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَیْتِ‘ وَلَیْسَتْ بِسُنَّۃٍ‘ وَلٰـکِنْ قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَکَّۃَ وَالْمُشْرِکُوْنَ عَلٰی قُعَیْقِعَانَ‘ وَبَلَغَہٗ أَنَّہُمْ یَقُوْلُوْنَ : إِنَّ بِہٖ وَبِأَصْحَابِہِ ہُزَالًا فَقَالَ لِأَصْحَابِہِ اُرْمُلُوْا‘ أَرُوْہُمْ أَنَّ بِکُمْ قُوَّۃً فَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْمُلُ مِنَ الْحَجَرِ الْأَسْوَدِ إِلَی الرُّکْنِ الْیَمَانِیِّ‘ فَإِذَا تَوَارٰی عَنْہُمْ‘ مَشٰی) قَالُوْا : فَلاَ تَرٰی أَنَّہٗ أَمَرَہُمْ أَنْ یَمْشُوْا فِی الْأَشْوَاطِ الثَّلَاثَۃِ‘ فِیْمَا بَیْنَ الرُّکْنَیْنِ حَیْثُ لَا یَرَاہُمَ الْمُشْرِکُوْنَ‘ وَأَمَرَہُمْ أَنْ یَرْمُلُوْا فِیْمَا بَقِیَ مِنْ ھٰذِہِ الْأَشْوَاطِ لِیُرُوْہُمْ فَلَمَّا کَانَ قَدْ أَمَرَہُمْ بِالرَّمَلِ حَیْثُ یَرَوْنَہُمْ‘ وَبِتَرْکِہٖ حَیْثُ لَا یَرَوْنَہُمْ‘ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الرَّمَلَ کَانَ مِنْ أَجْلِہِمْ‘ لَا مِنْ أَجْلِ أَنَّہٗ سُنَّۃٌ قَالُوْا : وَمِمَّا دَلَّ عَلٰی ذٰلِکَ أَنَّہٗ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ لَمَّا حَجَّ‘ وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٧٥٠: ابوالطفیل کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس (رض) سے کہا تمہاری قوم کا خیال یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں رمل کیا اور یہ سنت ہے انھوں نے جواب دیا انھوں نے کچھ سچ اور کچھ جھوٹ بولا۔ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بیت اللہ میں رمل کیا مگر یہ سنت نہیں ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تشریف لائے ‘ مشرکین جبل قیقعان پر چڑھ گئے آپ کو یہ اطلاع ملی کہ مشرکین کہتے ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام کو کمزوری نے آلیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام کو رمل کا حکم فرمایا کہ مشرکین کو دکھاؤ کہ ہم میں کوئی کمی نہیں آئی پس جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حجر اسود سے رکن یمانی تک رمل فرماتے۔ پھر جب ان سے چھپ جاتے تو اپنی حالت پر چلتے۔ اول فریق کے علماء کہتے ہیں کہ کیا تم یہ بات نہیں پاتے کہ آپ نے ان کو پہلے تین چکروں دوار کان کے درمیان معمول کے مطابق چلنے کا حکم فرمایا جہاں مشرکین ان کو نہ دیکھتے تھے اور چکر کے بقیہ حصہ میں ان کو رمل کا حکم فرمایا تاکہ کفار کو (قوت) دکھائیں پس جب ان کو رمل کا حکم صرف اسی جانب تھا جہاں مشرکین ان کو دیکھتے تھے اور جہاں نہ دیکھتے وہاں رمل کو ترک کرتے تھے تو اس سے یہ بات پا یہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ رمل ان کفار کی وجہ سے تھا ۔ اس طور پر نہ تھا کہ یہ طواف کا ایک مستقل طریقہ ہے۔ انھوں نے دوسری دلیل دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے حج کے موقعہ پر ایسا نہیں کیا اور اس میں انھوں نے یہ روایات ذکر کیں۔
تخریج : فی الحج ٢٣٧‘ مسند احمد ١‘ ٢٢٩؍٢٣٨۔
غور کریں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو تین چکروں میں رکن یمانی اور رکن حجر کے درمیان جہاں مشرکین ان کو نہ دیکھتے تھے چلنے کا حکم فرمایا اور ان چکروں کے بقیہ حصہ میں مشرکین کو دکھانے کے لیے رمل کا حکم فرمایا پس جب رمل کا حکم ان کو دکھانے کے لیے کیا اور جہاں وہ نہ دیکھتے تھے وہاں رمل کو چھوڑ دیا تو اس سے ثابت ہوا رمل انہی کی وجہ سے تھا اس وجہ سے نہ تھا کہ یہ سنت ہے اور اس کی دلیل یہ ہے۔ کہ حج کے موقعہ پر آپ نے رمل نہیں کیا جیسا اس روایت میں ہے۔