hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4416

.

الطحاوي

4416
Al Tahawi
۴۴۱۶: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَنْصَارِیُّ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ ، قَالَ : ثَنَا مُغِیْرَۃُ ، وَحُصَیْنٌ ، وَأَشْعَثُ ، وَاِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ خَالِدٍ ، وَدَاوٗدَ ، وَیَسَارٌ وَمُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلٰی فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ بِالْمَدِیْنَۃِ ، فَسَأَلْتُہَا عَنْ قَضَائِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَیْہَا .قَالَتْ : طَلَّقَنِی زَوْجِی أَلْبَتَّۃَ فَخَاصَمْتہ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی السُّکْنَی وَالنَّفَقَۃِ ، فَلَمْ یَجْعَلْ لِیْ سُکْنٰی وَلَا نَفَقَۃً وَأَمَرَنِیْ أَنْ أَعْتَدَّ فِیْ بَیْتِ ابْنِ مَکْتُوْمٍ .وَقَالَ مُجَالِدٌ فِیْ حَدِیْثِہِ : یَا اِبْنَۃَ قَیْسٍ اِنَّمَا النَّفَقَۃُ وَالسُّکْنٰی عَلَی مَنْ کَانَ لَہُ الرَّجْعَۃُ .
٤٤١٦: امام شعبی کہتے ہیں کہ میں فاطمہ بنت قیس کی خدمت میں مدینہ منورہ حاضر ہوا اور میں نے ان سے اس فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق کیا تھا۔ وہ کہنے لگیں میرے خاوند نے مجھے طلاق بائنہ دے دی میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا تاکہ سکنی اور نفقہ حاصل ہو۔ مگر آپ نے میرے لیے نفقہ و سکنی کسی کا بھی فیصلہ نہ فرمایا اور مجھے حکم دیا کہ میں ابن ام مکتوم (رض) کے مکان پر اپنی عدت کے ایام پورے کروں۔ مجالد کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں۔ اے قیس کی بیٹی نفقہ اور سکنیٰ تو اس عورت کے لیے ہے جس کے متعلق خاوند کو رجوع کا اختیار ہو۔
لغات : وہ عورت جس کو طلاق بائنہ ملے اس کے لیے نفقہ و سکنی میں اختلاف ہے فریق اوّل جس کو امام احمد ‘ شعبی ‘ عکرمہ ‘ عطاء ‘ حسن (رح) نے اختیار کیا کہ اس کا نفقہ و سکنی ساقط ہے۔
فریق ثانی طلاق کی جو قسم بھی ہو نفقہ و سکنیٰ ساقط نہ ہوگا۔ امام ابوحنیفہ ‘ مالک ‘ شافعی ‘ شریح و نخعی (رح) اور تابعین کی کثیر تعداد نے اس کو اختیار کیا ہے۔ اس میں حاملہ و غیر حاملہ کی بھی قید نہیں ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف : جس عورت کو طلاق بائنہ ہوجائے اس کے لیے نفقہ و سکنی ساقط ہوجاتا ہے نفقہ و سکنی اس عورت کے لیے ہے جس کو طلاق رجعی دی جائے۔ دلیل یہ روایات فاطمہ بنت قیس ہیں۔
تخریج : مسلم فی الطلاق ٤٢‘ نسائی فی الطلاق باب ٧٠‘؍٧٢‘ ترمذی فی الطلاق باب ٥‘ والنکاح باب ٣٨‘ مسند احمد ٦‘ ٤١٣؍٤١٦۔