۴۴۲۷: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ وَسُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ ، قَالَا : ثَنَا أَسَدٌ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ أَبِیْ سَلْمَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ الرَّحْمٰنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ قَیْسٍ أَنَّہَا اسْتَفْتَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ طَلَّقَہَا زَوْجُہَا ، فَقَالَ لَہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا نَفَقَۃَ لَک عِنْدَہُ وَلَا سُکْنٰی وَکَانَ یَأْتِیہَا أَصْحَابُہٗ فَقَالَ : اعْتَدِّیْ عِنْدَ ابْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ فَاِنَّہٗ أَعْمَی .
٤٤٢٧: ابو سلمہ اور محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان نے فاطمہ بنت قیس سے روایت نقل کی ہے کہ میں نے اس وقت جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا جبکہ میرے خاوند نے مجھے طلاق دے دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس پر نہ تمہارا نفقہ ہے اور نہ سکنیٰ ۔ (ام شریک کے ہاں آپ کے صحابہ کرام کی آمدورفت رہتی تھی) اس لیے آپ نے فرمایا تم ابن ام مکتوم (رض) کے ہاں عدت گزارو۔ وہ نابینا ہے۔
تخریج : مسلم فی الطلاق ٣٥؍٤٥‘ نسائی فی النکاح باب ٢٢‘ مالک فی الطلاق ٦٧۔