۴۴۲۸: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ فَرَّ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ ثَابِتٍ أَنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ قَیْسٍ أَخْبَرَتْہٗ، وَکَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِیْ مَخْزُوْمٍ ، فَأَخْبَرَتْہُ أَنَّہٗ طَلَّقَہَا ثَلَاثًا ، وَخَرَجَ اِلَیْ بَعْضِ الْمَغَازِی وَأَمَرَ وَکِیلًا لَہٗ أَنْ یُعْطِیَہَا بَعْضَ النَّفَقَۃِ فَاسْتَقَلَّتْہَا .فَانْطَلَقَتْ اِلَیْ اِحْدٰی نِسَائِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہِیَ عِنْدَہَا ، فَقَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، ہٰذِہِ فَاطِمَۃُ بِنْتُ قَیْسٍ طَلَّقَہَا فُلَانٌ ، فَأَرْسَلَ اِلَیْہَا بَعْضَ النَّفَقَۃِ فَرَدَّتْہَا ، وَزَعَمَ أَنَّہٗ شَیْء ٌ تَطَوَّلَ بِہٖ ، قَالَ : صَدَقَ .وَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : انْتَقِلِیْ اِلَی أُمِّ شَرِیْکٍ ، فَاعْتَدِّیْ عِنْدَہَا ، ثُمَّ قَالَ : اِنَّ أُمَّ شَرِیْکٍ یَکْثُرُ عُوَّادُہَا ، وَلٰـکِنْ انْتَقِلِیْ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُمِّ مَکْتُوْمٍ ، فَاِنَّہٗ أَعْمَی فَانْتَقَلَتْ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ، فَاعْتَدَّتْ عِنْدَہٗ، حَتَّی انْقَضَتْ عِدَّتُہَا .
٤٤٢٨: عبدالرحمن بن عاصم نے ثابت سے روایت کی کہ فاطمہ بنت قیس نے مجھے بتلایا کہ وہ بنی مخزوم کے ایک آدمی کی بیوی تھیں اس نے فاطمہ کو تین طلاق دے دیں اور کسی غزوہ میں چلے گئے اور اپنے وکیل کو کہا کہ ان کو کچھ خرچہ دیتے رہو۔ فاطمہ نے وہ قلیل خیال کیا۔ تو فاطمہ ازواج مطہرات میں سے ایک کے ہاں گئیں اچانک جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لے آئے جبکہ فاطمہ ابھی وہاں موجود تھیں اس زوجہ نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ فاطمہ بنت قیس ہیں ان کے خاوند نے ان کو طلاق دے دی ہے اور تھوڑا سا خرچہ اس کی طرف بھیجا وہ بھی اس نے واپس کردیا ہے اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ معمولی خرچہ بھی محض امتنان و احسان ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ انھوں نے درست کہا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فاطمہ کو مخاطب کر کے فرمایا تم ام شریک کے مکان پر منتقل ہوجاؤ اور عدت گزارو پھر فرمایا : امّ شریک کے ہاں آنے جانے والے بہت ہیں لیکن تم ابن ام مکتوم (رض) کے مکان میں منتقل ہوجاؤ وہ نابینا ہیں چنانچہ فاطمہ عبداللہ کے ہاں منتقل ہوگئیں اور وہیں اپنی عدت آخر تک گزاری۔
تخریج : نسائی فی الطلاق باب ٧٠‘ مسند احمد ٦؍٤١٤۔