۴۵۲۲: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَخِیْہِ عَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَکَانَ رَجُلٌ فِیْ زَمَنِ عُمَرَ ، قَالَ : جَلَسَ اِلَیْنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ أُنَیْسٍ فِیْ مَجْلِسِ جُہَیْنَۃَ فِیْ آخِرِ رَمَضَانَ ، فَقُلْتُ لَہٗ : یَا أَبَا یَحْیَی ، ہَلْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃِ الْمُبَارَکَۃِ شَیْئًا ؟ .فَقَالَ : نَعَمْ ، جَلَسْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ آخِرِ ہٰذَا الشَّہْرِ فَقُلْنَا : یَا نَبِیَّ اللّٰہِ، مَتَیْ نَلْتَمِسُ ہٰذِہِ اللَّیْلَۃَ الْمُبَارَکَۃَ ؟ فَقَالَ الْتَمِسُوْہَا ہٰذِہِ اللَّیْلَۃَ لِمَسَائِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ .فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ : فَہِیَ اِذًا أُوْلَی ثَمَانٍ ، فَقَالَ اِنَّہَا لَیْسَتْ بِأُوْلَی ثَمَانٍ ، وَلٰـکِنَّہَا أُوْلَیْ سَبْعٍ ، مَا تُرِیْدُ بِشَہْرٍ لَا یَتِمُّ ؟
٤٥٢٢: معاذ بن عبداللہ نے اپنے بھائی عبداللہ بن عبداللہ سے روایت کی ہے کہ فاروق اعظم (رض) کے زمانہ میں ایک آدمی تھا وہ کہنے لگا کہ ہمارے پاس عبداللہ بن انیس (رض) قبیلہ جہینہ کی ایک مجلس میں جو آخر رمضان میں تھی آ بیٹھے تو میں نے ان سے کہا اے ابو یحییٰ ! کیا تم نے اس مبارک رات کے متعلق جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کچھ سنا ؟ انھوں نے کہا جی ہاں ! ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ اس ماہ کے آخر میں بیٹھے تھے ہم نے عرض کیا یا نبی اللہ ! اس مبارک رات کو ہم کب تلاش کریں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس رات کو تیئیسویں کی رات سے تلاش کرو۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا پھر وہ آٹھ میں سے پہلی ہوئی۔ آپ نے فرمایا سات میں سے پہلی ہے تیری مہینے سے کیا مراد ہے کبھی وہ پورا نہیں ہوتا۔