hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4529

.

الطحاوي

4529
Al Tahawi
۴۵۲۹: وَقَدْ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاھِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ ، عَنْ أَبِیْہِ أَنَّہٗ قَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اِنِّیْ أَکُوْنُ بِبَادِیَۃٍ یُقَالُ لَہَا الْوَطْأَۃُ ، وَاِنِّیْ - بِحَمْدِ اللّٰہِ - أُصَلِّی بِہِمْ فَمُرْنِیْ بِلَیْلَۃٍ مِنْ ہٰذَا الشَّہْرِ ، أَنْزِلُہَا اِلَی الْمَسْجِدِ فَأُصَلِّیہَا فِیْہِ .قَالَ انْزِلْ لَیْلَۃَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ ، فَصَلِّہَا فِیْہِ، وَاِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تَسْتَتِمَّ آخِرَ الشَّہْرِ فَافْعَلْ ، وَاِنْ أَحْبَبْتُ فَکُفَّ فَکَانَ اِذَا صَلَّی صَلَاۃَ الْعَصْرِ ، دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَا یَخْرُجُ اِلَّا لِحَاجَۃٍ حَتَّی یُصَلِّیَ الصُّبْحَ ، فَاِذَا صَلَّی الصُّبْحَ ، کَانَتْ دَابَّتُہُ بِبَابِ الْمَسْجِدِ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ قَدْ جَعَلَ لِلَیْلَۃِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ فِی التَّحَرِّی ، مَا لَمْ یَحْصُلْ لِسَائِرِ السَّبْعِ الْأَوَاخِرِ .
٤٥٢٩: عبداللہ بن انیس (رض) کے بیٹے ان سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا کہ میں جنگل و دیہات میں ہوتا ہوں اس کا نام الوطاۃ ہے میں اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اپنے لوگوں کو نماز پڑھاتا ہوں۔ آپ مجھے اس مہینہ کی ایک رات کو حکم فرما دیں کہ جس میں مسجد نبوی میں حاضر ہو کر نماز ادا کروں آپ نے ارشاد فرمایا تم تیئیسویں رات کو آجانا اور اس میں نماز ادا کرو اور اگر تم پسند کرو تو مہینہ کو آخر تک مکمل کرلینا اور اگر پسند کر وتو رک جانا (یعنی آئندہ دنوں میں نہ آنا) اس روایت میں تحری کے سلسلہ میں تیئیسویں شب کو جو اہمیت دی گئی وہ بقیہ ہفتہ کی راتوں کو نہیں دی گئی۔
چنانچہ عبداللہ بن انیس (رض) جب عصر کی نماز (٢٢ رمضان کو) پڑھ لیتے تو مسجد نبوی میں داخل ہوتے اور صبح تک فقط قضائے حاجت کے علاوہ نہ نکلتے پس جب صبح کی نماز پڑھ لیتے تو ان کا گھوڑا مسجد کے دروازہ پر تیار ہوتا۔ (اس پر سوار ہو کر واپس لوٹ جاتے) ۔
اس روایت میں تحری کے سلسلہ میں تیئیسویں شب کو جو اہمیت دی گئی وہ بقیہ ہفتہ کی راتوں کو نہیں دی گئی۔