۴۵۳۰: وَقَدْ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ فُدَیْکٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ بِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ ، عَنْ أَبِیْھَابِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، عَنْ أَبِیْہِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ أَنَّہٗ سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ، فَقَالَ اِنِّیْ رَأَیْتُہُا فَأُنْسِیتُہَا ، فَتَحَرَّہَا فِی النِّصْفِ الْآخَرِ .ثُمَّ عَادَ فَسَأَلَہٗ، فَقَالَ فِیْ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ تَمْضِی مِنِ الشَّہْرِ قَالَ عَبْدُ الْعَزِیْزِ : فَأَخْبَرَنِیْ أَبِیْ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُنَیْسٍ کَانَ یُحْیِیْ لَیْلَۃَ سِتَّ عَشْرَۃَ اِلَی لَیْلَۃِ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ ، ثُمَّ تُقْصَرُ فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَہٗ أَنْ یَتَحَرَّاہَا فِی النِّصْفِ الْأَخِیرِ مِنِ الشَّہْرِ ، ثُمَّ أَمَرَہُ بَعْدَ ذٰلِکَ أَنْ یَتَحَرَّاہَا لَیْلَۃَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ .فَقَدْ رَجَعَ مَعْنٰی ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِلَی مَعْنَی مَا رَوَیْنَا قَبْلَہُ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّمَا أَمَرَ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ أُنَیْسٍ بِتَحَرِّی لَیْلَۃِ الْقَدْرِ فِی اللَّیْلَۃِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا ، عَلٰی أَنَّ تَحَرِّیَہُ ذٰلِکَ اِنَّمَا تَکُوْنُ فِیْ تِلْکَ السَّنَۃِ کَذٰلِکَ لِرُؤْیَاہُ الَّتِیْ کَانَ رَآہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاِنْ کَانَتْ قَدْ تَکُوْنُ فِیْ غَیْرِہَا مِنْ السِّنِیْنَ بِخِلَافِ ذٰلِکَ فَأَمَّا مَا رُوِیَ عَنْہُ فِیْ رُؤْیَاہُ الَّتِیْ کَانَ رَآہَا ، مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہَا عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ بِشْرِ بْنِ سَعِیْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، خِلَافُ ذٰلِکَ .
٤٥٣٠: عطیہ بن عبداللہ نے اپنے والد عبداللہ بن انیس (رض) سے نقل کیا کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلۃ القدر کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا۔ میں نے لیلۃ القدر کو دیکھا ہے وہ مجھے بھلا دی گئی پس تم اس کو نصف آخر میں تلاش کرلو۔ پھر لوٹ کر سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب مہینے کی تیئیس راتیں گزر جائیں تو اس کو تلاش کرو۔ عبدالعزیز کہتے ہیں میرے والد محترم نے بتلایا کہ عبداللہ بن انیس (رض) سترہ سے تیئیسویں تک راتوں میں جاگ کر تلاش کرتے پھر اگلی راتوں میں کم کردیتے۔
یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پہلے ان کو آخری نصف ماہ میں تلاش کا حکم فرمایا پھر تیئیسویں رات میں تحری کا حکم فرمایا۔ اس طرح اس روایت کا معنی بھی عبداللہ بن انیس (رض) کی پہلی روایت کی طرف لوٹ آیا۔
اور یہ بھی ممکن ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عبداللہ بن انیس (رض) کو خاص طور پر اسی رات میں لیلۃ القدر کی تلاش کا حکم فرمایا ہو کہ آپ کی تحری اس سال سے متعلق اسی رات کی ہو کیونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خواب میں اسی طرح دیکھا۔ اگرچہ دوسرے سالوں میں ممکن ہے اس کے خلاف ہو۔
ایک اشکال :
جو بشر بن معید نے عبداللہ بن انیس (رض) سے نقل کیا اس کے برخلاف ابو سعید خدری (رض) سے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ روایت ابو سعید خدری (رض) ملاحظہ ہو۔