۴۵۳۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَیْمُوْنٍ ، قَالَ : ثَنَا الْوَلِیْدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی أَنَّ أَبَا سَلْمَۃَ حَدَّثَہٗ ، قَالَ : أَتَیْتُ أَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ، فَقُلْتُ : ہَلْ سَمِعْتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَذْکُرُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ ؟ فَقَالَ : نَعَمْ ، اعْتَکَفْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَشْرَ الْأَوْسَطَ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ ، فَلَمَّا کَانَ صَبِیْحَۃُ عِشْرِیْنَ ، قَامَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْنَا فَقَالَ مَنْ کَانَ خَرَجَ فَلْیَرْجِعْ فَاِنِّیْ أُرِیْتُ اللَّیْلَۃَ وَاِنِّیْ أُنْسِیتُہَا وَاِنِّیْ رَأَیْتُ أَنِّیْ أَسْجُدُ فِیْ مَائٍ وَطِیْنٍ ، فَالْتَمِسُوْہَا فِی الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ ، فِیْ وِتْرٍ قَالَ أَبُوْ سَعِیْدٍ : وَمَا نَرَی فِی السَّمَائِ قَزَعَۃً ، فَلَمَّا کَانَ اللَّیْلُ ، اِذَا سَحَابٌ مِثْلُ الْجِبَالِ فَمُطِرْنَا حَتَّی سَالَ سَقْفُ الْمَسْجِدِ ، وَسَقْفُہُ یَوْمَئِذٍ ، مِنْ جَرِیْدِ النَّخْلِ ، حَتّٰی رَأَیْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَسْجُدُ فِیْ مَائٍ وَطِیْنٍ، حَتّٰی رَأَیْتُ أَثَرَ الطِّیْنِ فِیْ أَنْفِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہَا کَانَتْ عَامَئِذٍ ، فِیْ لَیْلَۃِ اِحْدَی وَعِشْرِیْنَ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ الْعَامُ ، ہُوَ عَامٌ آخَرُ ، خِلَافُ الْعَامِ الَّذِیْ کَانَتْ فِیْہِ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ أُنَیْسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ، لَیْلَۃَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِیْنَ، وَذٰلِکَ أَوْلَی مَا حُمِلَ عَلَیْہِ ہَذَانِ الْحَدِیْثَانِ ، حَتّٰی لَا یَتَضَادَّا .
٤٥٣١: ابو سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت ابو سعید خدری (رض) کی خدمت میں آیا اور میں نے کہا کیا تم نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے لیلۃ القدر کا تذکرہ سنا ہے ؟ انھوں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ رمضان المبارک درمیانے عشرہ کا اعتکاف کیا جب بیس کی صبح ہوئی۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا اور فرمایا۔ جو مسجد سے نکل چکے انھیں واپس لوٹ آنا چاہیے مجھے رات دکھایا گیا اور مجھے بھلا دیا گیا۔ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں اپنی اور مٹی میں سجدہ کررہا ہوں۔ پس اس کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر اس سال اکیسویں شب میں تھی۔ ممکن ہے یہ سال اس سال کے علاوہ ہے جو عبداللہ بن انیس (رض) کی روایت میں ہے کہ جس میں تئیسویں شب میں لیلۃ القدر تھی اور ان دونوں روایتوں کو اس طرح محمول کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ دونوں روایتوں کا باہم تضاد نہ ہو۔
ابو سعید (رض) کا بیان ہے ہم آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں دیکھ رہے تھے۔ جب رات ہوئی تو پہاڑوں کی طرح بادل چھا گیا۔ پس بارش ہوگئی جس سے مسجد کی چھت ٹپک گئی اس وقت مسجد کی چھت کھجور کی شاخوں کی بنی ہوئی تھی یہاں تک کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پانی اور مٹی میں سجدہ کرتے دیکھا اور گیلی مٹی کا نشان میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ناک پر پایا۔
تخریج : بخاری فی لیلۃ القدر باب ٢‘ ٣‘ الاعتکاف باب ١‘ مسلم فی الصیام روایت ٢١٣؍٢١٨‘ ابو داؤد فی رمضان باب ٣‘ نسائی فی السہو باب ٩٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ٥٦‘ مالک فی الاعتکاف ٩‘ مسند احمد ٣؍٢٤‘ ٤٩٥۔
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ لیلۃ القدر اس سال اکیسویں شب میں تھی۔
جواب ممکن ہے یہ سال اس سال کے علاوہ ہے جو عبداللہ بن انیس (رض) کی روایت میں ہے کہ جس میں تئیسویں شب میں لیلۃ القدر تھی اور ان دونوں روایتوں کو اس طرح محمول کرنا زیادہ بہتر ہے تاکہ دونوں روایتوں کا باہم تضاد نہ ہو۔