hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4791

.

الطحاوي

4791
Al Tahawi
۴۷۹۱: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُسْلِمُ بْنُ اِبْرَاھِیْمَ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ الْأَنْصَارِیُّ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الدَّانَاجِ ، قَالَ : ثَنَا حُضَیْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِیُّ قَالَ : شَہِدْت عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَقَدْ أُتِیَ بِالْوَلِیْدِ بْنِ عُقْبَۃَ وَقَدْ صَلَّی بِأَہْلِ الْکُوْفَۃِ الصُّبْحَ أَرْبَعًا وَقَالَ أَزِیْدُکُمْ قَالَ : فَشَہِدَ عَلَیْہِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ .قَالَ : فَشَہِدَ أَحَدُہُمَا أَنَّہٗ رَآہٗ یَشْرَبُہَا وَشَہِدَ الْآخَرُ أَنَّہٗ رَآہٗ یَقِیئُہَا .قَالَ : فَقَالَ عُثْمَانُ اِنَّہٗ لَمْ یَقِئْہَا حَتَّی شَرِبَہَا فَقَالَ عُثْمَانُ لِعَلِی : أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ فَقَالَ عَلِیٌّ لِابْنِہِ الْحَسَنِ : أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ .قَالَ : فَقَالَ الْحَسَنُ : وَلِّ حَارَّہَا مَنْ تَوَلَّی قَارَّہَا .قَالَ : فَقَالَ عَلِیٌّ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ أَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَعَلَ یَجْلِدُہُ وَعَلِیٌّ یَعُدُّ حَتَّیْ بَلَغَ أَرْبَعِیْنَ ثُمَّ قَالَ لَہٗ : أَمْسِکْ .ثُمَّ قَالَ : اِنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَلَدَ أَرْبَعِیْنَ وَجَلَدَ أَبُوْبَکْرٍ أَرْبَعِیْنَ وَجَلَدَ عُمَرُ ثَمَانِیْنَ وَکُلٌّ سُنَّۃٌ وَہٰذَا أَحَبُّ اِلَیَّ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الْحَدَّ الَّذِیْ یَجِبُ عَلَی شَارِبِ الْخَمْرِ ہَذَا أَرْبَعُوْنَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ وَادَّعَوْا فَسَادَ ہٰذَا الْحَدِیْثِ وَأَنْکَرُوْا أَنْ یَکُوْنَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا لِأَنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ مَا یُخَالِفُ ذٰلِکَ وَیَدْفَعُہٗ .وَہُوَ ۔
٤٧٩١: حصین بن منذر رقاشی نے بیان کیا کہ میں عثمان بن عفان (رض) کی خدمت میں موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو لایا گیا اس نے اہل کوفہ کو صبح کی نماز چار رکعت پڑھائی اور کہا کیا اور اضافہ کروں۔ راوی کہتے ہیں ان کے خلاف حمران اور ایک اور آدمی نے گواہی دی۔ ایک نے گواہی دی کہ اس نے ان کو شراب پیتے دیکھا اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اس کو شراب کی قے کرتے دیکھا۔ تو حضرت عثمان (رض) نے کہا اس نے شراب کی قے تبھی کی جبکہ اس نے پی ہے۔ پھر حضرت عثمان (رض) نے حضرت علی (رض) کو کہا اس پر حد قائم کرو۔ حضرت علی (رض) نے اپنے بیٹے حسن (رض) کو کہا اس پر حد قائم کرو۔ پس حضرت حسن (رض) کہنے لگے۔ اس کی مشقت کا ذمہ دار اسی کو بناؤ جو اس کی راحت کا ذمہ دار ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کا قول یہ ہے کہ شراب پینے والے کی حد چالیس کوڑے ہے اور انھوں نے مذکورہ بالا آثار کو اپنا مستدل بنایا ہے۔ دوسرے علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ شراب نوشی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی جیسا کہ آئندہ روایات سے ثابت ہوگا اور ہمارا دعویٰ ہے کہ اس روایت میں سقم ہے کیونکہ حضرت علی (رض) سے اس کے خلاف روایات وارد ہیں جن کو ہم نقل کر رہے ہیں۔ راوی کہتا ہے پھر حضرت علی (رض) نے عبداللہ بن جعفر (رض) کو کہا اس پر حد کو قائم کرو۔ چنانچہ انھوں نے کوڑا پکڑا اور اس کو کوڑے لگانے لگے اور حضرت علی (رض) شمار کرتے جاتے تھے۔ یہاں تک کہ جب چالیس تک پہنچ گئے تو فرمایا بس کر دو ۔ پھر فرمایا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس کوڑے لگائے اور ابوبکر نے چالیس لگائے اور عمر (رض) نے اسی لگائے اور یہ دونوں سنت ہیں یہ مجھے زیادہ پسند ہے یعنی چالیس۔
تخریج : مسلم فی الحدود ٣٨‘ ابو داؤد فی الحدود باب ٣٥‘ دارمی فی المقدمہ باب ٢٠۔
لغات : ول حارھا من تولٰی قارھا۔ مشقت کا ذمہ دار اسی کو بناؤ جو راحت کا ذمہ ہے۔ حار۔ گرم سے مراد مشقت۔ قار۔ ٹھندک والا مراد آرام۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض علماء کا قول یہ ہے کہ شراب پینے والے کی حد چالیس کوڑے ہے اور انھوں نے مذکورہ بالا آثار کو اپنا مستدل بنایا ہے
فریق ثانی کا مؤقف : شراب نوشی کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی جیسا کہ آئندہ روایات سے ثابت ہوگا۔
فریق اوّل کے مؤقف کا جواب : اس روایت میں سقم ہے کیونکہ حضرت علی (رض) سے اس کے خلاف روایات وارد ہیں جن کو ہم نقل کر رہے ہیں۔