۴۷۹۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ قَالَ : أَخْبَرَنَا شَرِیْکٌ ، عَنْ أَبِیْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِیْدٍ عَنْ عَلِیْ قَالَ : مَا حَدَدْتُ أَحَدًا حَدًّا فَمَاتَ فِیْہِ فَوَجَدْتُ فِیْ نَفْسِی شَیْئًا اِلَّا الْخَمْرَ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یُسِنَّ فِیْہَا شَیْئًا .فَہٰذَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَکُنْ سَنَّ فِیْ شُرْبِ الْخَمْرِ حَدًّا .ثُمَّ الرِّوَایَۃُ عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنْہُ فِیْ حَدِیْثِ شَارِبِ الْخَمْرِ ، فَعَلٰی خِلَافِ مَا فِی الْحَدِیْثِ الْأَوَّلِ أَیْضًا مِنْ اخْتِیَارِہِ الْأَرْبَعِیْنَ عَلَی الثَّمَانِیْنَ .
٤٧٩٣: عمیر بن سعید نے حضرت علی (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے کسی شخص کو کوئی حد نہیں لگائی جس سے وہ مرگیا ہو تو اس کی وجہ سے میں دل میں کچھ غم محسوس کروں سوائے حد شراب کے کیونکہ اس میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی طریق مقرر نہیں فرمایا۔ ذرا غور فرمائیں یہ حضرت علی (رض) خبر دے رہے ہیں کہ شراب نوشی میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کوئی حد مقرر نہیں فرمائی۔ پھر دوسری بات یہ ہے کہ حضرت علی (رض) کی یہ روایت پہلی روایت جو شروع باب میں گزری اس کے خلاف ہے اس میں اسی کوڑوں کا مارنا ثابت ہو رہا ہے جبکہ شروع باب والی روایت اسی پر چالیس کوڑوں پر ترجیح دینا مذکور ہے۔
تخریج : بخاری فی الحدود باب ٤‘ مسلم فی الحدود ٣٩‘ مسند احمد ١؍١٢٥‘ ١٣٠۔