hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5056

.

الطحاوي

5056
Al Tahawi
۵۰۵۵ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ : ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ قَتْلُ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ عَلٰی حَالٍ ، وَأَنَّہٗ لَا یَحِلُّ أَنْ یُقْصَدَ اِلَی قَتْلِ غَیْرِہِمْ ، اِذَا کَانَ لَا یُؤْمِنُ فِیْ ذٰلِکَ تَلَفُہُمْ .مِنْ ذٰلِکَ أَنَّ أَہْلَ الْحَرْبِ اِذَا تَتَّرِسُوْا بِصِبْیَانِہِمْ ، فَکَانَ الْمُسْلِمُوْنَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَمْیَہُمْ اِلَّا بِاِصَابَۃِ صِبْیَانِہِمْ ، فَحَرَامٌ عَلَیْہِمْ رَمْیُہُمْ فِیْ قَوْلِ ہٰؤُلَآئِ وَکَذٰلِکَ اِنْ تَحَصَّنُوْا بِحِصْنٍ وَجَعَلُوْا فِیْہِ الْوِلْدَانَ ، فَحَرَامٌ عَلَیْنَا رَمْیُ ذٰلِکَ الْحِصْنِ عَلَیْہِمْ ، اِذَا کُنَّا نَخَافُ مِنْ ذٰلِکَ اِصَابَۃَ صِبْیَانِہِمْ وَنِسَائِہِمْ وَاحْتَجُّوْا بِالْآثَارِ الَّتِیْ رَوَیْنَاہَا فِیْ صَدْرِ ہٰذَا الْبَابِ وَوَافَقَہُمْ آخَرُوْنَ عَلَیْ صِحَّۃِ ہٰذِہِ الْآثَارِ ، وَ عَلَی تَوَاتُرِہَا ، وَقَالُوْا : وَقَعَ النَّہْیُ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی الْقَصْدِ اِلَی قَتْلِ النِّسَائِ وَالْوِلْدَانِ .فَأَمَّا عَلٰی طَلَبِ قَتْلِ غَیْرِہِمْ مِمَّنْ لَا یُوَصِّلُ اِلَی ذٰلِکَ مِنْہُ اِلَّا بِتَلَفِ صِبْیَانِہِمْ وَنِسَائِہِمْ ، فَلَا بَأْسَ بِذٰلِکَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ
٥٠٥٥: فریابی نے سفیان سے اپنی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے اور امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں ‘ ایک جماعت کا قول یہ ہے کہ کسی عورت اور بچے کو کسی حالت میں قتل کرنا جائز نہیں اور ان کے علاوہ لوگوں کو بھی قتل کا ارادہ کرنا درست نہیں جبکہ ان کے ضائع ہونے کا خطرہ ہو۔ مثلاً جب لڑنے والے لوگ جب اپنے بچوں کو ڈھال بنالیں اور مسلمان ان بچوں اور عورتوں پر تیر اندازی کے بغیر جنگجو لوگوں تک نہ پہنچا جاسکے تو ان پر تیراندازی حرام ہے اسی طرح اگر وہ قلعے میں بند ہوجائیں اور اس میں بچوں کو رکھیں تو اس قلعہ پر تیراندازی حرام ہے جبکہ یہ خطرہ ہو کہ یہ تیر ان عورتوں اور بچوں کو لگیں گے۔ انھوں نے مذکورہ بالا روایات کو اپنے استدلال میں پیش کیا۔ دوسروں نے کہا بچوں اور عورتوں کا قتل بلاشبہ درست نہیں مگر جب جنگجو لوگوں تک ان کو قتل کے بغیر نہ پہنچا جاسکتا ہو تو ان کا قتل اس وقت درست ہے ان کی دلیل مندرجہ ذیل روایات ہیں۔ فریق ثانی کا کہنا ہے کہ ان آثار کی صحت میں کلام نہیں۔ مگر ان کے سلسلہ میں ممانعت سے مراد بالقصد ان کا قتل کرنا ہے اور اس میں کسی کو اختلاف نہیں۔