۵۰۸۴ : وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا یَسْأَلُ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الْأَنْفَالِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : الْفَرَسُ مِنَ النَّفْلِ ، ثُمَّ عَادَ لِمَسْأَلَتِہِ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ذٰلِکَ أَیْضًا ثُمَّ قَالَ الرَّجُلُ : الْأَنْفَالُ الَّتِی قَالَ اللّٰہُ فِیْ کِتَابِہٖ مَا ہِیَ ؟ قَالَ الْقَاسِمُ : فَلَمْ یَزَلْ یُحَالُہُ حَتّٰی کَادَ یُخْرِجُہُ .
٥٠٨٤: زہری نے قاسم بن محمد سے نقل کیا کہ میں نے ایک آدمی سے سنا جو ابن عباس (رض) سے مال غنیمت کے متعلق پوچھ رہا تھا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا۔ اس کا سامان اور گھوڑا وہ مال غنیمت سے ہے اس نے پھر سوال دھرایا تو ابن عباس (رض) نے پھر بھی یہی جواب دیا آدمی نے پھر کہا وہ مال غنیمت جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ قاسم کہنے لگے وہ سوال کو بار بار دھراتا رہا یہاں تک کہ قریب تھا کہ وہ اس کو باہر نکال دیں۔