۵۱۰۱ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی‘ عَنْ مَکْحُوْلٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلَّامٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُنَفِّلُہُمْ اِذَا خَرَجُوْا بَادِیْنِ الرُّبُعَ ، وَیُنَفِّلُہُمْ اِذَا قَفَلُوْا الثُّلُثَ قِیْلَ لَہُمْ : وَہٰذَا الْحَدِیْثُ أَیْضًا قَدْ یَحْتَمِلُ مَا احْتَمَلَہُ حَدِیْثُ حَبِیْبِ بْنِ مَسْلَمَۃَ الَّذِی أَرْسَلَہٗ أَکْثَرُ النَّاسِ عَنْ مَکْحُوْلٍ ، أَنَّہٗ کَانَ یُنَفِّلُ فِی الْبَدْأَۃِ الرُّبُعَ، وَفِی الرَّجْعَۃِ الثُّلُثَ وَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ عُبَادَۃُ عَنِیَ بِقَوْلِہٖ وَیُنَفِّلُہُمْ اِذَا قَفَلُوْا الثُّلُثَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ عَلَی قُفُوْلٍ مِنْ قِتَالٍ اِلَی قِتَالٍ .فَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ کَذٰلِکَ ، وَکَانَ الثُّلُثُ الْمُنَفَّلُ ، ہُوَ الثُّلُثَ قَبْلَ الْخُمُسِ ، فَذٰلِکَ جَائِزٌ - عِنْدَنَا - أَیْضًا ، لِأَنَّہٗ یُرْجَی بِذٰلِکَ صَلَاحُ الْقَوْمِ ، وَتَحْرِیْضُہُمْ عَلَی قِتَالِ عَدُوِّہِمْ فَأَمَّا اِذَا کَانَ الْقِتَالُ قَدْ ارْتَفَعَ ، فَلَا یَجُوْزُ النَّفَلُ ، لِأَنَّہٗ لَا مَنْفَعَۃَ لِلْمُسْلِمِیْنَ فِیْ ذٰلِکَ .وَاحْتَجَّ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا ،
٥١٠١: ابو سلام نے ابو امامہ باہلی سے انھوں نے عبادہ بن صامت (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں چوتھا حصہ عنایت فرماتے جب ابتداء میں نکلتے اور جب ہم واپس لوٹتے تو تیسرا حصہ عنایت فرماتے۔ اس روایت میں وہی احتمال ہے جو حبیب بن مسلمہ (رض) کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ ابتداء میں چوتھا حصہ لیتے اور واپسی تیسرا حصہ لیتے تھے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عبادہ (رض) اپنے قول ” وینفلہم اذا قفلوا الثلث “ سے ایک لڑائی سے دوسری لڑائی میں جانا اور لوٹنا مراد لیا ہو۔ اگر یہ بات اسی طرح ہو اور غنیمت کا تیسرا حصہ دیا گیا ہو تو اس سے وہ ثلث مراد ہے جو خمس سے پہلے ہو اور ہمارے ہاں بھی یہ بات جائز ہے۔ کیونکہ اس سے لوگوں کی بہتر کارکردگی کی امید ہوسکتی ہے اور دشمنوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جب لڑائی ختم ہوگئی ہو تو اس وقت مال غنیمت سے حصہ دینا درست نہیں کیونکہ اس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں۔ فریق اوّل کی ایک اور دلیل یہ روایت ہے۔
الجواب نمبر 1: اس روایت میں وہی احتمال ہے جو حبیب بن مسلمہ (رض) کی روایت میں مذکور ہے کہ آپ ابتداء میں چوتھا حصہ لیتے اور واپسی تیسرا حصہ لیتے تھے۔
جواب نمبر 2: اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت عبادہ (رض) اپنے قول ” وینفلہم اذا قفلوا الثلث “ سے ایک لڑائی سے دوسری لڑائی میں جانا اور لوٹنا مراد لیا ہو۔ اگر یہ بات اسی طرح ہو اور غنیمت کا تیسرا حصہ دیا گیا ہو تو اس سے وہ ثلث مراد ہے جو خمس سے پہلے ہو اور ہمارے ہاں بھی یہ بات جائز ہے۔ کیونکہ اس سے لوگوں کی بہتر کارکردگی کی امید ہوسکتی ہے اور دشمنوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جب لڑائی ختم ہوگئی ہو تو اس وقت مال غنیمت سے حصہ دینا درست نہیں کیونکہ اس میں مسلمانوں کا کوئی فائدہ نہیں۔