۵۱۰۳ : بِمَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ عَدِی ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ، عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِیَّۃً فِیْہَا ابْنُ عُمَرَ ، فَغَنِمُوْا غَنَائِمَ کَثِیْرَۃً ، فَکَانَتْ غَنَائِمُہُمْ لِکُلِّ اِنْسَانٍ ، اثْنَیْ عَشَرَ بَعِیْرًا ، وَنَفَّلَ کُلَّ اِنْسَانٍ مِنْہُمْ بَعِیْرًا بَعِیْرًا ، سِوٰی ذٰلِکَ قَالُوْا : فَہٰذَا ابْنُ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یُخْبِرُ أَنَّہُمْ قَدْ نُفِّلُوْا بَعْدَ سِہَامِہِمْ ، بَعِیْرًا بَعِیْرًا ، فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .قِیْلَ لَہُمْ : مَا لَکُمْ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مِنْ حُجَّۃٍ ، وَلَہُوَ اِلَی الْحُجَّۃِ عَلَیْکُمْ أَقْرَبُ مِنْہُ اِلَی الْحُجَّۃِ لَکُمْ لِأَنَّہٗ فِیْہِ، فَبَلَغَتْ سُہْمَانُہُمْ اثْنَیْ عَشَرَ بَعِیْرًا ، وَنُفِّلُوْا بَعِیْرًا بَعِیْرًا .فَفِیْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّ مَا نُفِّلُوْا مِنْہُ مِنْ ذٰلِکَ ، کَانَ مِنْ غَیْرِ مَا کَانَتْ فِیْہِ سُہْمَانُہُمْ وَہُوَ الْخُمُسُ ، فَلَا حُجَّۃَ لَکُمْ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ فِی النَّفْلِ مِنْ غَیْرِ الْخُمُسِ فَلَمَّا لَمْ یَکُنْ فِیْ شَیْئٍ مِمَّا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی لِقَوْلِہِمْ مِنَ الْآثَارِ ، مَا یَجِبُ بِہٖ مَا قَالُوْا ، أَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ فِیْمَا احْتَجَّ بِہٖ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُخْرَی لِقَوْلِہِمْ مِنَ الْآثَارِ أَیْضًا ، فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٥١٠٣: عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر (رض) نے نافع سے انھوں نے ابن عمر (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چھوٹا لشکر روانہ فرمایا جس میں ابن عمر (رض) بھی تھے انھیں بہت سا مال غنیمت ملا چنانچہ ہر شریک لشکر کو بارہ بارہ اونٹ ملے۔ اس کے علاوہ بھی ان کو ایک ایک اونٹ ملا۔ یہ عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ انھوں نے اپنے حصہ سے ایک ایک زائد حاصل کیا اور جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر کوئی اعتراض نہیں فرمایا۔ یہ روایت تو آپ کے حق میں کیا ہوتی آپ کے خلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ہے کہ بارہ بارہ اونٹ بطور غنیمت ملے اور پھر ایک ایک اونٹ بطور غنیمت زائد ملا۔ اس سے تو یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ انھوں نے جو کچھ حاصل کیا وہ ان کے حصہ میں خمس کے علاوہ آیا اور اس بات کی تو کوئی دلیل نہیں کہ وہ زائد مال بغیر خمس کے لیا گیا تھا۔ فریق اوّل نے اپنے مؤقف کو ثابت کرنے کے لیے جو روایات پیش کی تھیں جب ان کے حق میں کوئی دلیل بھی ثابت نہ ہوسکی نہ مؤقف ثابت ہوا۔ فریق ثانی کے دلائل کا جائزہ لیتے ہیں۔ فریق ثانی کی دلیل اوّل روایت عبادہ بن صامت (رض) ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٣٧‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ١٤٥‘ مسند احمد ٢‘ ١٠؍٥٥‘ ٨٠؍١٥١۔