hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5105

.

الطحاوي

5105
Al Tahawi
۵۱۰۴ : فَاِذَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَدْ حَدَّثَنَا ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ مُوْسٰی ، عَنْ مَکْحُوْلٍ ، عَنْ أَبِیْ سَلَّامٍ عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیِّ ، عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ یَوْمَ حُنَیْنٍ وَبَرَۃً مِنْ جَنْبِ بَعِیْرٍ ، ثُمَّ قَالَ یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَنَّہٗ لَا یَحِلُّ لِیْ مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ اِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخُمُسُ مَرْدُوْدٌ فِیْکُمْ ، فَأَدُّوا الْخَیْطَ وَالْمَخِیْطَ قَالَ : وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَکْرَہُ الْأَنْفَالَ ، وَقَالَ لِیَرُدَّ قَوِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَی ضَعِیْفِہِمْ أَفَلَا تَرَی أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا یَحِلُّ لِیْ مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ اِلَّا الْخُمُسُ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا سِوَی الْخُمُسِ مِنَ الْغَنَائِمِ لِلْمُقَاتِلَۃِ ، لَا حُکْمَ لِلْاِمَامِ فِیْ ذٰلِکَ ثُمَّ کَرِہَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْأَنْفَالَ وَقَالَ لِیَرُدَّ قَوِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ عَلَی ضَعِیْفِہِمْ أَیْ لَا یُفَضَّلُ أَحَدٌ مِنْ أَقْوِیَائِ الْمُؤْمِنِیْنَ مِمَّا أَفَائَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ لِقُوَّتِہِ عَلَی ضَعِیْفِہِمْ لِضَعْفِہٖ، وَیَسْتَوُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ وَاسْتَحَالَ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَ مِنَ الْأَنْفَالِ مَا کَانَ یَکْرَہٗ، فَکَانَ النَّفَلُ الَّذِیْ لَیْسَ بِمَکْرُوْہٍ ہُوَ النَّفَلُ فِی الْخُمُسِ فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَفَّلَہٗ، مِمَّا رَوَاہُ عُبَادَۃُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، ہُوَ مِنَ الْخُمُسِ وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا مَا یَدُلُّ عَلَیْ صِحَّۃِ ہٰذَا الْمَذْہَبِ
٥١٠٤: حضرت ابو امامہ باہلی (رض) نے حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین کے دن ایک اونٹ کی اون میں سے ایک بال لے کر فرمایا۔ اے لوگو ! شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو مال غنیمت دیا ہے اس میں سے میرے لیے صرف خمس (پانچواں حصہ) حلال ہے اس کے علاوہ کوئی چیز حلال نہیں اور خمس بھی تمہیں لوٹا دیا جاتا ہے۔ پس تم دھاگے اور سوئی تک ادا کر دو ۔ عبادہ (رض) کا بیان ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غنیمت کو (اپنے لئے) ناپسند فرماتے تھے۔ اس لیے فرمایا کہ طاقت ور مؤمنوں کو ضعیفوں پر لوٹا دینا چاہیے۔ اس ارشاد میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو مال غنیمت اللہ تعالیٰ نے تمہیں عنایت فرمایا اس میں سے صرف خمس میرے لیے حلال ہے۔ اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ غنیمت میں خمس کے علاوہ بقیہ مجاہدین کے لیے ہے۔ اس میں امام کا حکم جاری نہ ہوگا۔ نیز اس میں یہ بھی موجود ہے۔ کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت لینا ناپسند فرمایا اور یہ ارشاد فرمایا کہ مالدار مسلمان کمزوروں کی طرف لوٹا دیں مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو جو مال غنیمت عنایت کیا گیا ہے۔ اس میں طاقت والوں کو طاقت کی وجہ سے کمزوروں پر ان کی کمزوری کی وجہ سے کوئی برتری حاصل نہیں بلکہ سب برابر ہیں اور یہ بات کسی طرح بھی قابل تسلیم نہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مال غنیمت کو ناپسند جاننے کے باوجود اس میں لے لیتے ہوں۔ پس آپ اسی مال سے لیتے تھے جو آپ کے لیے لینا مکروہ نہ تھا اور وہ مال غنیمت میں سے خمس تھا۔ اس روایت سے یہ ثابت ہوا کہ اس روایت میں حضرت عبادہ (رض) نے جس زائد مال غنیمت کا ذکر کیا ہے وہ خمس میں سے ہے نہ کہ اس کے علاوہ۔ فریق ثانی کے قول کی صحت کے لیے یہ روایت ابو عوانہ کافی ثبوت ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی الجہاد باب ٣٥‘ دارمی فی السیر باب ٤٤‘ مسند احمد ٥؍٣٢٤‘ ابو داؤد فی الجہاد باب ١٤٩‘ نسائی فی الفی باب ٦‘ مالک فی الجہاد ٢٢‘ مسند احمد ٥؍٣٣٠۔