۵۱۳۰ :عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِی الْمَجَالِدِ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ أَوْفَی ، صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخَیْبَرَ یَأْتِیْ أَحَدُنَا اِلَی طَعَامٍ مِنَ الْغَنِیْمَۃِ ، فَیَأْخُذُ مِنْہُ حَاجَتَہٗ۔فَاِذَا کَانَ الطَّعَامُ لَا بَأْسَ بِأَخْذِہِ وَأَکْلِہِ وَاسْتِہْلَاکِہِ لِحَاجَۃِ الْمُسْلِمِیْنَ اِلَی ذٰلِکَ ، کَانَ کَذٰلِکَ أَیْضًا ، لَا بَأْسَ بِأَخْذِ الدَّوَابِّ وَالسِّلَاحِ وَالثِّیَابِ وَاسْتِعْمَالِہَا ، لِلْحَاجَۃِ اِلَی ذٰلِکَ ، حَتّٰی لَا یَکُوْنَ الَّذِی أُرِیْدَ مِنْ حَدِیْثِ ابْنِ أَبِیْ أَوْفَیْ ہٰذَا، غَیْرُ مَا أُرِیْدُ بِہٖ مِنْ حَدِیْثِ رُوَیْفِعٍ ، حَتّٰی لَا یَتَضَادَّانِ .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ ، وَبِہٖ نَأْخُذُ .
٥١٣٠: محمد بن ابی المجالد نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت کی ہے جو کہ صحابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خیبر میں تھے ہم میں سے ہر ایک غنائم کے کھانے کی طرف آتا اور وہاں سے اپنی ضرورت کے مطابق لے لیتا تھا۔ اس روایت سے کھانے کا استعمال ثابت ہوا تو اگر کھانا ضرورت کے وقت استعمال کرنے اور اس کے کھانے اور اسے حاجت مسلم میں لگانے میں حرج نہیں تو بالکل اسی طرح جانوروں ہاتھیاروں اور کپڑوں کو لے کر ضرورت کے وقت استعمال میں کوئی حرج نہیں اور یہ مفہوم اس لیے مراد لیا گیا ہے تاکہ دونوں روایات عبداللہ بن ابی اوفیٰ اور روایت رویفع (رض) مفہوم کے لحاظ سے ایک دوسرے کے مخالف نہ ہوں۔ یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے اور اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں۔