hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5132

.

الطحاوي

5132
Al Tahawi
۵۱۳۱ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا بَکْرُ بْنُ خَلَفٍ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الشَّامِیُّ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ غَیْلَانَ بْنَ سَلْمَۃَ ، أَسْلَمَ وَتَحْتَہٗ عَشْرُ نِسْوَۃٍ ، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ عَلَیْہِ السَّلَامُ خُذْ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا .قَالَ أَبُوْجَعْفَرَ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا أَسْلَمَ ، وَعِنْدَہٗ أَکْثَرُ مِنْ أَرْبَعِ نِسْوَۃٍ ، قَدْ کَانَ تَزَوَّجَہُنَّ فِیْ دَارِ الْحَرْبِ وَہُوَ مُشْرِکٌ ، أَنَّہٗ یَخْتَارُ مِنْہُنَّ أَرْبَعًا ، فَیُمْسِکُہُنَّ ، وَیُفَارِقُ سَائِرَہُنَّ ، وَسَوَاء ٌ عِنْدَہُمْ ، کَانَ تَزْوِیْجُہٗ اِیَّاہُنَّ فِیْ عُقْدَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، أَوْ فِیْ عُقَدٍ مُتَفَرِّقَۃٍ ، وَمِمَّنْ قَالَ ہٰذَا الْقَوْلَ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ رَحِمَہُ اللّٰہُ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : اِنْ کَانَ تَزَوَّجَہُنَّ فِیْ عُقْدَۃٍ وَاحِدَۃٍ ، فَنِکَاحُہُنَّ کُلُّہُنَّ بَاطِلٌ ، وَیُفَرَّقُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَہُنَّ .وَاِنْ کَانَ تَزَوَّجَہُنَّ فِیْ عُقَدٍ مُتَفَرِّقَۃٍ ، فَنِکَاحُ الْأَرْبَعِ الْأُوَلِ مِنْہُنَّ ثَابِتٌ ، وَیُفَرَّقُ بَیْنَہٗ وَبَیْنَ سَائِرِہِنَّ ، وَمِمَّنْ ذَہَبَ اِلٰی ہٰذَا الْقَوْلِ أَبُوْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبُوْ یُوْسُفَ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمَا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ أَنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ مُنْقَطِعٌ ، لَیْسَ کَمَا رَوَاہُ عَبْدُ الْأَعْلٰی وَأَصْحَابُہُ الْبَصْرِیُّوْنَ عَنْ مَعْمَرٍ .اِنَّمَا أَصْلُہٗ۔
٥١٣١: سالم نے حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت غیلان بن سلمہ (رض) نے اسلام قبول کیا اور ان کی اس وقت دس بیویاں تھیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو فرمایا۔ ان میں سے چار کو رکھ لو۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ جب آدمی اسلام قبول کرلے اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں ہوں اور اس نے شرک کی حالت میں دارالحرب میں ان سے نکاح کیا ہو تو اسے ان میں سے چار کے چناؤ کا اختیار ہے کہ ان کو اپنے ہاں رکھے اور بقیہ کو جدا کر دے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ ان سے اکٹھی شادی کی ہو یا الگ الگ عقد کیا ہو۔ یہ امام محمد (رح) کا بھی قول ہے۔ اگر ان سب سے ایک عقد سے نکاح کیا ہو تو تمام سے نکاح ٹوٹ جائے گا اور اس کے اور ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر الگ الگ عقد سے نکاح ہوا تو پہلی چار سے نکاح درست رہے گا۔ بقیہ سے تفریق کردی جائے گی اس قول کو امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف (رح) اور دیگر علماء نے اختیار کیا ہے۔ اس روایت کو جس طرح عبدالاعلیٰ اور اس کے شاگردوں نے معمر (رح) سے جس طرح بیان کیا یہ اس طرح نہیں بلکہ اس کی اصل یہ ہے۔
تخریج : ترمذی فی النکاح باب ٣٣‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٤٠‘ مسند احمد ٢‘ ١٣؍١٤‘ ٤٤؍٨٣۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں : ایک جماعت کا خیال یہ ہے کہ جب آدمی اسلام قبول کرلے اور اس کے پاس چار سے زائد بیویاں ہوں اور اس نے شرک کی حالت میں دارالحرب میں ان سے نکاح کیا ہو تو اسے ان میں سے چار کے چناؤ کا اختیار ہے کہ ان کو اپنے ہاں رکھے اور بقیہ کو جدا کر دے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ ان سے اکٹھی شادی کی ہو یا الگ الگ عقد کیا ہو۔ یہ امام محمد (رح) کا بھی قول ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : اگر ان سب سے ایک عقد سے نکاح کیا ہو تو تمام سے نکاح ٹوٹ جائے گا اور اس کے اور ان کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور اگر الگ الگ عقد سے نکاح ہوا تو پہلی چار سے نکاح درست رہے گا۔ بقیہ سے تفریق کردی جائے گی اس قول کو امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف (رح) اور دیگر علماء نے اختیار کیا ہے۔
فریق اوّل کی روایت کا جواب : اس روایت کو جس طرح عبدالاعلیٰ اور اس کے شاگردوں نے معمر (رح) سے بیان کیا یہ اس طرح نہیں بلکہ اس کی اصل یہ ہے۔