hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5197

.

الطحاوي

5197
Al Tahawi
۵۱۹۶ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ قَالَ : خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ یُقَالُ لَہٗ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰہِ، اِلَی عُمَرَ فَقَالَ : اِنَّ بِأَرْضِ الْبَصْرَۃِ أَرْضًا لَا تَضُرُّ بِأَحَدِ الْمُسْلِمِیْنَ ، وَلَیْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ ، فَاِنْ شِئْتُ أَنْ تُقْطِعَنِیْہَا - ، أَتَّخِذُہَا قَضْبًا وَزَیْتُوْنًا ، وَنَخْلًا فِیْ نَخِیلِی فَافْعَلْ فَکَانَ أَوَّلَ مَنْ أَحْدَثَ الْفَلَایَا بِأَرْضِ الْبَصْرَۃِ .قَالَ : فَکَتَبَ عُمَرُ اِلٰی أَبِیْ مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ اِنْ کَانَتْ حِمًی - ، فَأَقْطِعْہَا اِیَّاہُ .أَفَلَا تَرَی أَنَّ عُمَرَ لَمْ یَجْعَلْ لَہٗ أَخْذَہَا ، وَلَا جَعَلَ لَہُ مِلْکَہَا اِلَّا بِاِقْطَاعِ خَلِیْفَتِہِ ذٰلِکَ الرَّجُلَ اِیَّاہَا ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ ، لَکَانَ یَقُوْلُ : لَہٗ : وَمَا حَاجَتُک اِلَیْ اِقْطَاعِیْ اِیَّاکَ ، لِأَنَّ لَک أَنْ تُحْیِیَہَا دُوْنِیْ، وَتَعْمُرَہَا فَتَمْلِکُہَا .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْاِحْیَائَ عِنْدَ عُمَرَ ، ہُوَ مَا أَذِنَ الْاِمَامُ فِیْہِ، لِلَّذِیْ یَتَوَلَّاہُ وَمَلَّکَہُ اِیَّاہُ .وَقَدْ دَلَّ ذٰلِکَ أَیْضًا
٥١٩٦: محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا کہ بصرہ کا ایک آدمی حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا بصرہ کی سرزمین میں ایک جگہ ایسی ہے اگر آپ پسند کریں تو اسے میرے لیے خاص کردیں میں اس میں سبزی ‘ زیتون ‘ کھجوریں لگا لوں گا۔ یہ پہلا شخص تھا جس نے بصرہ میں جنگل کو حاصل کیا۔ حضرت عمر (رض) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کو لکھا کہ وہ جگہ اگر چراگاہ ہے تو اسے اس شخص کے لیے مختص کردیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس زمین کا لینا اور حاصل کرنا اپنے نائب کی تقسیم کے بغیر ناجائز قرار دیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ فرماتے کہ میری تقسیم کی کیا حاجت ہے تم میری اجازت کے بغیر بھی اس کو لے سکتے ہو اور آباد کر کے مالک بن سکتے ہو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے ہاں یہ زمین آباد کرنے کے باوجود اسی کی ہوگی جس کے لیے حکمران اختیار دے گا اور مالک بنائے گا۔ حضرت عمر (رض) کا یہ اثر بھی اس کی مزید تائید کرتا ہے ملاحظہ ہو۔
ذرا غور فرمائیں کہ حضرت عمر (رض) نے اس زمین کا لینا اور حاصل کرنا اپنے نائب کی تقسیم کے بغیر ناجائز قرار دیا اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپ فرماتے کہ میری تقسیم کی کیا حاجت ہے تم میری اجازت کے بغیر بھی اس کو لے سکتے ہو اور آباد کر کے مالک بن سکتے ہو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے ہاں یہ زمین آباد کرنے کے باوجود اسی کی ہوگی جس کے لیے حکمران اختیار دے گا اور مالک بنائے گا۔
مزید تائیدی قول :
حضرت عمر (رض) کا یہ اثر بھی اس کی مزید تائید کرتا ہے ملاحظہ ہو۔