hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 522

.

الطحاوي

522
Al Tahawi
۵۲۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ قَالَ : أَنَا حُمَیْدَۃُ وَغَیْرُہٗ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الْمُہَاجِرِ (أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَبُوْلُ، أَوْ قَالَ : مَرَرْتُ بِہٖ وَقَدْ بَالَ، فَسَلَّمْتُ عَلَیْہِ، فَلَمْ یَرُدَّ عَلَیَّ، حَتّٰی فَرَغَ مِنْ وُضُوْئِہٖ، ثُمَّ رَدَّ عَلَیَّ) .فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذَا فَقَالُوْا : لَا یَنْبَغِیْ لِأَحَدٍ أَنْ یَذْکُرَ اللّٰہَ تَعَالٰی بِشَیْئٍ إِلَّا وَہُوَ عَلٰی حَالٍ یَجُوْزُ لَہٗ أَنْ یُصَلِّیَ عَلَیْہَا .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : مَنْ سُلِّمَ عَلَیْہِ، وَہُوَ عَلٰی حَالِ حَدَثٍ، تَیَمَّمَ وَرَدَّ عَلَیْہِ السَّلَامَ وَإِنْ کَانَ فِی الْمِصْرِ وَقَالُوْا فِیْمَا سِوَی السَّلَامِ، مِثْلَ قَوْلِ أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی، وَکَانَ مِمَّا احْتَجُّوْا بِہٖ فِیْ ذٰلِکَ مَا۔
٥٢٢: حسن نے مہاجر (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت (پیشاب) میں مصروف تھے یا ایسے حال میں آپ کے پاس سے گزرا کہ آپ قضاء حاجت سے فارغ ہوچکے تھے تو میں نے سلام کیا آپ نے میرے سلام کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ اپنے وضو سے فارغ ہوگئے تو میرے سلام کا جواب دیا۔ علماء کی ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کا ذکر صرف اس وقت درست ہے جبکہ وہ ایسی حالت میں ہو جس سے نماز ادا کرسکتا ہو۔ مگر دوسرے علماء کو ان سے اختلاف ہے ‘ وہ کہتے ہیں جس کو سلام کیا جائے اور وہ اس وقت بےوضو ہو تو تیمم کر کے ان کے سلام کا جواب دے اگر وہ شہر میں ہو اور سلام کے علاوہ دیگر اذکار میں ان کا قول پہلے علماء کی طرح ہے۔ یہ روایات مستدل ہیں۔
تخریج : ابو داؤد باب ٨‘ نسائی فی الطھارۃ باب ٣٣‘ ابن ماجہ ٣٥٠
حاصل روایات :
ان دونوں روایات کو مستدل بنا کر حسن بصری وغیرہ (رح) کہتے ہیں کہ جیسا ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سلام کا جواب بھی آپ نے بلاوضو نہیں دیا پس اذکار اور سلام کے لیے بھی وضو ضروری ہے۔
دوسرا فریق :
محدثین کی جماعت کہتی ہے کہ سلام کا جواب اگرچہ پانی ہو مگر جلدی جواب کی خاطر تیمم کر کے دیا جاسکتا ہے۔ اور سلام کے علاوہ میں ان کے ہاں بھی وضو لازم ہے۔