۵۲۶۹ : حَدَّثَنَا فَہْدُ بْنُ سُلَیْمَانَ ، قَالَ : ثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِیَاثٍ ، قَالَ : ثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْأَقْرَبِیْنَ صَعِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الصَّفَا فَجَعَلَ یُنَادِیْ یَا بَنِیْ عَدِی ، یَا بَنِیْ فُلَانٍ لِبُطُوْنِ قُرَیْشٍ ، حَتَّی اجْتَمَعُوْا ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ اِذَا لَمْ یَسْتَطِعْ أَنْ یَخْرُجَ ، أَرْسَلَ رَسُوْلًا لِیَنْظُرَ .وَجَائَ أَبُو لَہَبٍ وَقُرَیْشٌ ، فَاجْتَمَعُوْا ، فَقَالَ أَرَأَیْتُمْ لَوْ أَخْبَرْتُکُمْ أَنَّ خَیْلًا بِالْوَادِی تُرِیْدُ أَنْ تُغِیْرَ عَلَیْکُمْ ، أَکُنْتُمْ مُصَدِّقِیَّ ؟ .قَالُوْا : نَعَمْ مَا عَلَیْکَ اِلَّا صِدْقًا ، قَالَ فَاِنِّیْ نَذِیْرٌ لَکُمْ ، بَیْنَ یَدَیَّ عَذَابٌ شَدِیْدٌ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّہٗ دَعَا بُطُوْنَ قُرَیْشٍ کُلَّہَا .
٥٢٦٩: سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب آیت وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء) نازل ہوئی تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صفا پہاڑی پر چڑھے اور اس طرح آواز دی اے بنی عدی اے بنی فلاں تمام بطون قریش کو آواز دی یہاں تک کہ وہ تمام جمع ہوگئے پس جو کوئی آدمی نہ آسکتا تھا۔ اس نے اپنی طرف سے قاصد بھیجا تاکہ بات کو معلوم کرے۔ ابو لہب اور قریش آ کر اکٹھے ہوئے۔ تو آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا۔ تمہارا کیا خیال ہے اگر میں تمہیں اطلاع دوں کہ وادی میں گھڑ سوار دستہ تم پر لوٹ ڈالنا چاہتا ہے کیا تم میری بات کی تصدیق کرو گے۔ انھوں نے کہا جی ہاں۔ ہم نے تمہارے جھوٹ کا تجربہ نہیں کیا تم سچ بولتے ہو۔ آپ نے فرمایا میں سخت عذاب سے ڈرانے کے لیے تمہارے پاس نذیر بن کر آیا ہوں۔ اس روایت میں تمام بطون قریش کو دعوت دینا مذکور ہے۔