hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5272

.

الطحاوي

5272
Al Tahawi
۵۲۷۱ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ یُوْنُسُ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ سَعِیْدٌ وَأَبُوْ سَلْمَۃَ ، أَنَّ أَبَا ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہٗ۔، غَیْرَ أَنَّہٗ قَالَ یَا صَفِیَّۃُ ، یَا فَاطِمَۃُ .فَلَمَّا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَمَرَہٗ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنْ یُنْذِرَ عَشِیْرَتَہُ الْأَقْرَبِیْنَ ، أَنْذَرَ قُرَیْشًا ، بَعِیْدَہَا وَقَرِیْبَہَا ، دَلَّ ذٰلِکَ أَنَّہُمْ جَمِیْعًا ذَوُو قَرَابَتِہٖ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ ، لَقَصَدَ بِاِنْذَارِہِ اِلَی ذٰوِی قَرَابَتِہِ مِنْہُمْ ، وَتَرَکَ مَنْ لَیْسَ مِنْہُمْ بِذَوِی قَرَابَۃٍ لَہٗ، فَلَمْ یُنْذِرْہُ کَمَا لَمْ یُنْذِرْ مَنْ یَجْمَعُہٗ، وَاِیَّاہُ أَبٌ غَیْرُ قُرَیْشٍ .فَاِنْ قَالَ قَائِلٌ : اِنَّہٗ اِنَّمَا جَمَعَ قُرَیْشًا کُلَّہَا فَأَنْذَرَہَا ، لِأَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَمَرَہٗ أَنْ یُنْذِرَ عَشِیْرَتَہُ الْأَقْرَبِیْنَ ، وَلَا عَشِیْرَۃَ لَہٗ أَقْرَبُ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَلِذٰلِکَ دَعَا قُرَیْشًا کُلَّہَا ، اِذْ کَانَتْ بِأَجْمَعِہَا ، عَشِیْرَتَہُ الَّتِیْ ہِیَ أَقْرَبُ الْعَشَائِرِ اِلَیْہِ .قِیْلَ لَہٗ : لَوْ کَانَ کَمَا ذَکَرْتُ ، اِذًا کَانَ یَقُوْلُ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْقُرْبَی وَلٰـکِنَّہٗ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ یَقُلْ لَہُ کَذٰلِکَ ، وَقَالَ لَہُ وَأَنْذِرْ عَشِیْرَتَک الْأَقْرَبِیْنَ .فَأَعْلَمَہُ أَنَّ کُلَّ أَہْلِ ہٰذِہِ الْعَشِیْرَۃِ مِنْ أَقْرَبِیْھِ .فَبَطَلَ بِمَا ذَکَرْنَا ، قَوْلُ مَنْ جَعَلَ ذَا قُرْبَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، بَنِیْ ہَاشِمٍ ، وَبَنِی الْمُطَّلِبِ خَاصَّۃً .وَفِیْمَا ذَکَرْنَا مِنْ بَعْدِ ہٰذِہِ الْحُجَّۃِ الَّتِی احْتَجَجْنَا بِہَا ، مَا یُغْنِیْنَا عَنْ الِاحْتِجَاجِ لِقَوْلِ مَنْ قَالَ : اِنَّ ذَوِیْ قُرْبَیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ہُمْ قُرَیْشٌ کُلُّہَا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ تَأْوِیْلِ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ قُلْ لَا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْہِ أَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبَی مَا یَدُلُّ عَلَی ہٰذَا الْمَعْنَی أَیْضًا .
٥٢٧١: سعید اور ابو سلمہ نے بتلایا کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پھر اسی طرح کی روایت نقل کی۔ بس اس میں یہ اضافہ ہے اے صفیہ اے فاطمہ۔ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قریبی خاندان والوں کو ڈرانے کا حکم ہوا تو آپ نے قریش کے بعید و قریب سب رشتہ داروں کو دعوت دی۔ اس سے دلالت مل گئی کہ یہ تمام آپ کے قرابت والے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرابت والوں کو ڈراتے وقت ان کو ڈراتے جو زیادہ قرابت والے تھے اور جو قرابت دار نہ تھے ان کو چھوڑ دیتے۔ جیسا کہ آپ نے غیر قریش کو چھوڑ دیا اور ان کو اقربین کے انذار میں شامل نہیں کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام قریش کو جمع کیا اور ڈرایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عشیرہ اقربین کو ڈرانے کا حکم فرمایا تھا اور قریش سے قریب تر آپ کا اور خاندان نہ تھا۔ اسی لیے آپ نے تمام قریش کو جو کہ تمام قبائل آپ سے قریب تر تھے دعوت دی۔ تو اس کا جواب یہ ہے اگر آپ کی بات درست تسلیم کرلی جائے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا تو وانذر عشیرتک القربٰی ہونا چاہیے تھا حالانکہ آیت میں تو وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء : ٢١٤) فرمایا گیا ہے۔ آپ کو اس سے یہ بتلایا کہ خاندان قریش کے سب لوگ آپ کے اقارب ہیں پس اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہوگئی جنہوں نے ذوالقربیٰ کو فقط بنو ہاشم و بنو مطلب کے ساتھ خاص کیا۔ ذوالقربیٰ سے تمام قریش مراد ہیں۔ اگرچہ یہ بات ہم نے ثابت کردی کہ ذوی القربیٰ سے فقط بنو ہاشم و بنو مطلب مراد نہیں بلکہ تمام قریش مراد ہیں۔ اس مؤقف کے لیے ہم ایسی دلیل پیش کرنا چاہیے جو تمام دلائل سے بےنیاز کرنے والی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربٰی (الشورٰی : ٢٣) کی تفسیری روایت اس معنی پر دلالت کرتی ہے۔
جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنی قریبی خاندان والوں کو ڈرانے کا حکم ہوا تو آپ نے قریش کے بعید و قریب سب رشتہ داروں کو دعوت دی۔ اس سے دلالت مل گئی کہ یہ تمام آپ کے قرابت والے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قرابت والوں کو ڈراتے وقت ان کو ڈراتے جو زیادہ قرابت والے تھے اور جو قرابت دار نہ تھے ان کو چھوڑ دیتے۔ جیسا کہ آپ نے غیر قریش کو آپ نے چھوڑ دیا اور ان کو اقربین کے انذار میں شامل نہیں کیا۔
M: آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمام قریش کو جمع کیا اور ڈرایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عشیرہ اقربین کو ڈرانے کا حکم فرمایا تھا اور قریش سے قریب تر آپ کا اور خاندان نہ تھا۔ اسی لیے آپ نے تمام قریش کو جو کہ تمام قبائل آپ سے قریب تر تھے دعوت دی۔
جواباس کا جواب یہ ہے اگر آپ کی بات درست تسلیم کرلی جائے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا تو وانذر عشیرتک القربٰی ہونا چاہیے تھا حالانکہ آیت میں تو وانذر عشیرتک القربین (الشعراء ٢١٤) فرمایا گیا ہے۔ آپ کو اس سے یہ بتلایا کہ خاندان قریش کے سب لوگ آپ کے اقارب ہیں پس اس سے ان لوگوں کی بات غلط ثابت ہوگئی جنہوں نے ذوالقربیٰ کو فقط بنو ہاشم و بنو مطلب کے ساتھ خاص کیا۔ ذوالقربیٰ سے تمام قریش مراد ہیں۔
اگرچہ یہ بات ہم نے ثابت کردی کہ ذوی القربیٰ سے فقط بنو ہاشم و بنو مطلب مراد نہیں بلکہ تمام قریش مراد ہیں۔ اس مؤقف کے لیے ہم ایسی دلیل پیش کرنا چاہیے جو تمام دلائل سے بےنیاز کرنے والی ہے۔
نمبر 1: حضرت عبداللہ بن عباس (رض) نے اللہ تعالیٰ کے ارشاد : قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربٰی (الشوریٰ : ٢٣) کی تفسیری روایت اس معنی پر دلالت کرتی ہے۔