۵۳۳۳ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسَی قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ زَکَرِیَّا قَالَ : ثَنَا أَبِیْ عَنِ الشَّعْبِیِّ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مُطِیْعٍ : سَمِعْتُ مُطِیْعًا یَقُوْلُ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ یَقُوْلُ : لَا یُقْتَلُ قُرَشِیٌّ صَبْرًا بَعْدَ ہٰذَا الْیَوْمِ اِلَیْ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ .قَالَ : فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ دِمَائَ قُرَیْشٍ اِنَّمَا حُرِّمَتْ بَعْدَ ذٰلِکَ الْیَوْمِ لِمَا کَانَ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حُرْمَتُہُ یَوْمَئِذٍ عَلَیْہِمْ .ثُمَّ خَطَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَئِذٍ خُطْبَۃً بَیَّنَ فِیْہَا حُکْمَ مَکَّۃَ قَبْلَ دُخُوْلِہِ اِیَّاہَا وَحُکْمَہَا وَقْتَ دُخُوْلِہِ اِیَّاہَا وَحُکْمَہَا بَعْدَ ذٰلِکَ .
٥٣٣٣‘ شعبی نے عبداللہ بن مطیع سے نقل کیا کہ میں نے مطیع (رض) سے سنا کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا آج کے بعد قیامت تک کوئی قرشی پکڑ جکڑ کر قتل نہ کیا جائے گا۔ اس روایت سے یہ دلالت مل گئی کہ قریش کے خون اس دن کے بعد حرام ہوئے اس دن ان کے خون جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حرام نہ تھے۔ پھر آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا اس میں مکہ میں داخلے سے پہلے جو اس کا حکم تھا وہ بتلایا اور داخلہ کے وقت اور بعد کا حکم بتلایا۔ جیسا کہ یہ روایت دلالت کر رہی ہے عمرو بن عون کی روایت ملاحظہ ہو۔
تخریج : مسلم فی الجہاد ٨٨‘ دارمی فی الدیات باب ٢٤‘ مسند احمد ٣‘ ٤١٢‘ ٤‘ ٢١٣۔