۵۶۴۷: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِیْ اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ مَسْرُوْقٍ عَنْ بِلَالٍ قَالَ : کَانَ عِنْدِیْ مِنْ تَمْرٍ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَوَجَدْتُ أَطْیَبَ مِنْہُ صَاعًا بِصَاعَیْنِ ، فَاشْتَرَیْتُہٗ ، فَأَتَیْتُ بِہٖ اِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ أَیْنَ لَک ہٰذَا یَا بِلَالُ .فَقُلْتُ : اِشْتَرَیْتُہٗ ، صَاعًا بِصَاعَیْنِ فَقَالَ رُدَّہٗ، وَرُدَّ عَلَیْنَا تَمْرَنَا .
٥٦٤٧: مسروق نے حضرت بلال (رض) سے روایت کی ہے کہ میرے پاس کچھ کھجوریں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے رکھی تھیں میں نے اس سے عمدہ پائیں جو ایک صاع دو صاع کے بدلے ملتی تھیں میں نے وہ خرید لیں اور ان کو آپ کی خدمت میں لایا تو آپ نے پوچھا اے بلال یہ کہاں سے لائے ہو ؟ میں نے کہا میں نے خریدی ہیں دو صاع دے کر ایک صاع لیا آپ نے فرمایا انھیں واپس کر دو اور ہماری کھجوریں ہمیں لوٹا دو ۔