۵۶۷۰: فَحَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ قَالَ : ثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ حَنَشُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ الصَّنْعَانِیُّ ، أَنَّہٗ کَانَ فِی الْبَحْرِ ، مَعَ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ قَالَ حَنَشٌ : فَاشْتَرَیْتُ قِلَادَۃً فِیْہَا تِبْرٌ وَیَاقُوْتٌ ، وَزَبَرْجَدٌ فَأَتَیْتُ فَضَالَۃَ بْنَ عُبَیْدٍ ، فَذَکَرْتُ لَہُ ذٰلِکَ فَقَالَ لَا تَأْخُذْ التِّبْرَ بِالتِّبْرِ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَاِنِّیْ کُنْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِخَیْبَرَ ، فَاشْتَرَیْتُ قِلَادَۃً بِسَبْعَۃِ دَنَانِیْرَ ، فِیْہَا تِبْرٌ وَجَوْہَرٌ ، فَسَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْہَا ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَأْخُذْ التِّبْرَ بِالذَّہَبِ ، اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، غَیْرُ مَا تَقَدَّمَہٗ مِنَ الْأَحَادِیْثِ : وَذٰلِکَ أَنَّ مَا حَکَی فَضَالَۃُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ہُوَ التِّبْرُ بِالذَّہَبِ ، مِثْلًا بِمِثْلٍ ، وَلَمْ یَذْکُرْ فَسَادَ الْبَیْعِ فِی الْقِلَادَۃِ الْمَبِیْعَۃِ بِذٰلِکَ اِذْ کَانَ فِیْہَا ذَہَبٌ وَغَیْرُہٗ۔ فَہٰذَا خِلَافُ الْأَحَادِیْثِ الْأُوَلِ .وَقَدْ رَوَاہُ آخَرُوْنَ أَیْضًا عَلٰی غَیْرِ ذٰلِکَ
٥٦٧٠: حنش بن عبداللہ صنعانی کہتے ہیں کہ میں ایک دریائی سفر میں حضرت فضالہ بن عبید (رض) کی معیت میں تھا میں نے ایک ہار خریدا جس میں سونا ‘ یاقوت ‘ زبرجد کا جڑاؤ تھا میں حضرت فضالہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات ذکر کی تو انھوں نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر لو۔ میں خیبر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ تھا میں نے ساٹھ دینار میں ایک ہار خریدا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلے برابر ہی لے سکتے ہیں۔ اس روایت میں پہلی احادیث سے مختلف مضمون ہے وہ اس طرح کہ اس روایت میں حضرت فضالہ (رض) نے جو کچھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کیا وہ یہ ہے کہ سونے کو سونے کے بدلے برابر لیا جائے اور جس ہار کو سونے کے بدلے فروخت کیا گیا اس کی بیع کے فاسد ہونے کا ذکر نہیں ہے جبکہ اس میں سونا اور دوسری چیزیں بعینہٖ خیبر والے ہار کی طرح تھیں یہ روایت پہلی روایات سے مختلف ہے۔
ایک اور انداز سے روایت :
دیگر حضرات نے اس روایت کو اس طرح نقل کیا ہے :