hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5672

.

الطحاوي

5672
Al Tahawi
۵۶۷۱: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ قُرَّۃُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ یَحْیَی الْمَعَافِرِیَّ أَخْبَرَہُمَا ، عَنْ حَنَشٍ أَنَّہٗ قَالَ : کُنَّا مَعَ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ فِیْ غَزْوَۃٍ ، فَصَارَتْ لِیْ وَلِأَصْحَابِیْ، قِلَادَۃٌ فِیْہَا ذَہَبٌ ، وَوَرِقٌ ، وَجَوْہَرٌ فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِیَہَا .فَسَأَلْتُ فَضَالَۃَ ، فَقَالَ : انْزِعْ ذَہَبَہَا ، وَاجْعَلْہُ فِی الْکِفَّۃِ ، وَاجْعَلْ ذَہَبًا فِی الْکِفَّۃِ الْأُخْرَی ، ثُمَّ لَا تَأْخُذَنَّ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ ، فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاَللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا یَأْخُذَنَّ اِلَّا مِثْلًا بِمِثْلٍ .فَہٰذَا خِلَافٌ لِمَا تَقَدَّمَہٗ مِنَ الْأَحَادِیْثِ ، لِأَنَّ فِیْہِ أَمْرَ فَضَالَۃَ بِنَزْعِ الذَّہَبِ وَبَیْعِہِ وَحْدَہٗ، وَلَمْ یَذْکُرْ ذٰلِکَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالَّذِیْ ذٰکَرَہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، ہُوَ نَہْیُہُ عَنْ بَیْعِ الذَّہَبِ بِالذَّہَبِ ، اِلَّا وَزْنًا بِوَزْنٍ .فَہٰذَا مَا لَا اخْتِلَافَ فِیْہِ، وَالْأَمْرُ بِالتَّفْصِیلِ مِنْ قَوْلِ فَضَالَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَمَرَ بِذٰلِکَ ، عَلٰی أَنَّہٗ لَا یَجُوْزُ عِنْدَہٗ، الْبَیْعُ فِیْہَا ، فِی الذَّہَبِ ، حَتّٰی تُفْصَلَ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَمَرَ بِذٰلِکَ ، لِاِحَاطَۃِ عِلْمِہِ أَنَّ تِلْکَ قِلَادَۃٌ ، لَا یُوْصَلُ اِلَی عِلْمِ مَا فِیْہَا مِنَ الذَّہَبِ ، وَلَا اِلَی مِقْدَارِہٖ، اِلَّا بَعْدَ أَنْ یُفْصَلَ مِنْہَا .فَقَدْ اضْطَرَبَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، فَلَمْ یُوْقَفْ عَلٰی مَا أُرِیْدَ مِنْہُ .فَلَیْسَ لِأَحَدٍ أَنْ یَحْتَجَّ بِمَعْنًی مِنَ الْمَعَانِیْ، الَّتِیْ رُوِیَ عَلَیْہَا ، اِلَّا احْتَجَّ مُخَالِفُہُ عَلَیْہِ، بِالْمَعْنَی الْآخَرِ .وَقَدْ قَدَّمْنَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ ، کَیْفَ وَجْہُ النَّظَرِ فِیْ ذٰلِکَ ، وَأَنَّہٗ عَلٰی مَا ذَہَبَ اِلَیْہِ الَّذِیْنَ جَعَلُوْا حُکْمَ الذَّہَبِ الْمَبِیْعِ مَعَ غَیْرِہِ بِالْمُذَہَّبِ ، لَا عَلَی قَسْمِ الثَّمَنِ عَلَی الْقِیَمِ ، وَلٰـکِنْ عَلٰی أَنَّ الذَّہَبَ مَبِیْعٌ بِوَزْنِہِ مِنَ الذَّہَبِ الثَّمَنِ ، وَمَا بَقِیَ مَبِیْعٌ بِمَا بَقِیَ مِنَ الثَّمَنِ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .
٥٦٧١: حضرت حنش سے مروی ہے کہ ہم ایک غزوہ میں حضرت فضالہ (رض) کے ہمراہ تھے تو مجھے اور میرے ساتھیوں کو ایک ہار ملا جس میں سونا اور جواہرات تھے میں نے اس کو خریدنا چاہا تو حضرت فضالہ (رض) سے مسئلہ دریافت کیا انھوں نے فرمایا اس کا سونا الگ کر دو اور اسے ترازو کے ایک پلڑے میں رکھو اور دوسرے پلڑے میں بھی سونا رکھو پھر برابر برابر کر کے لو۔ اس کے علاوہ نہ لو کیونکہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو وہ سونے کو سونے کے بدلے برابر کے علاوہ ہرگز نہ لے۔ یہ روایت پہلی روایات کے خلاف ہے کیونکہ اس میں یہ موجود ہے کہ حضرت فضالہ (رض) نے سونا اترانے اور اس کو الگ فروخت کرنے کا حکم فرمایا اور یہ بات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل نہیں کی جو کچھ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا ہے اس میں سونے کے بدلے سونے کے برابر برابر کے علاوہ فروخت کی ممانعت ہے اس میں تو کسی کو کلام نہیں۔ البتہ سونے کو الگ کرنے کا حکم حضرت فضالہ (رض) کے اپنے قول سے ثابت ہے۔ ممکن ہے کہ انھوں نے اس بات کا حکم اس لیے دیا ہو کہ ان کے ہاں ہار میں جڑے ہوئے سونے کا الگ کئے بغیر فروخت کر ان درست نہ ہو یہ بھی ممکن ہے کہ انھوں نے اس کا حکم اس لیے دیا کہ وہ جانتے تھے کہ اس ہار میں جڑے ہوئے سونے کی مقدار کا عمل اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کو الگ نہ کیا جائے۔ اس روایت میں اضطراب ہوا اور یہ معلوم نہیں ہوا کہ اس کا مطلب کیا ہے پس جو شخص ان معانی میں سے کسی ایک معنی کو دلیل بنائے گا مخالف دوسرے معنی والی روایت سے استدلال کرے گا۔ ہم نے اس باب میں قیاس کا طریقہ پہلے ذکر کر دیا ہے اور یہ ان لوگوں کے مسلک کے مطابق ہے جنہوں نے فروخت شدہ سونے کو دوسرے سونے کے مقابلے میں قرار دیا ہو۔ نہ یہ کہ قیمت کو ان دونوں چیزوں کی قیمت پر تقسیم کرنا بلکہ سونا قیمت میں سے اپنے ہم وزن سونے کے مقابل ہوگا اور جو باقی رہے گا وہ اس چیز کی قیمت ہوگی جو سونے کے ساتھ جڑی ہوئی تھی اور یہی امام ابوحنیفہ ’ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔