۵۶۷۲: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ ہُبَیْرَۃَ السَّبَائِیِّ ، عَنْ أَبِیْ تَمِیْمٍ الْجَیَشَانِیِّ ، قَالَ : اشْتَرٰی مُعَاوِیَۃُ بْنُ أَبِیْ سُفْیَانَ قِلَادَۃً ، فِیْہَا تِبْرٌ ، وَزَبَرْجَدٌ ، وَلُؤْلُؤٌ ، وَیَاقُوْتٌ بِسِتِّمِائَۃِ دِیْنَارٍ .فَقَامَ عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ، حِیْنَ طَلَعَ مُعَاوِیَۃُ الْمِنْبَرَ ، أَوْ حِیْنَ صَلَّی الظُّہْرَ ، فَقَالَ أَلَا اِنَّ مُعَاوِیَۃَ ، اِشْتَرَی الرِّبَا وَأَکَلَہٗ، أَلَا اِنَّہٗ فِی النَّارِ اِلٰی حَلْقِہٖ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ تِلْکَ الْقِلَادَۃُ ، کَانَ فِیْہَا مِنَ الذَّہَبِ أَکْثَرَ ، مِمَّا اُشْتُرِیَتْ بِہٖ ، فَکَانَ مِنْ عُبَادَۃَ مَا کَانَ لِذٰلِکَ .وَیَجُوْزُ أَنْ تَکُوْنَ بِیْعَتْ بِنَسِیْئَۃٍ ، فَاِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْ مُعَاوِیَۃَ ، أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ یَرَی بِذٰلِکَ بَأْسًا .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ ، وَفِی السَّبَبِ الَّذِیْ مِنْ أَجْلِہٖ عُبَادَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنْکَرَ عَلَی مُعَاوِیَۃَ فِیْ ذٰلِکَ ، مَا أَنْکَرَ .
٥٦٧٢: حضرت ابو تمیم جیشانی سے مروی ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے ایک ہار جس میں سونا ‘ زبرجد ‘ جواہرات اور یاقوت جڑا ہوا تھا چھ سو دینار کے بدلے خریدا حضرت معاویہ منبر پر بیٹھے یا انھوں نے نماز ظہر ادا کی تو حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے کھڑے ہو کر فرمایا سنو ! معاویہ نے سود کے طور پر سودا کیا اور اسے کھایا سنو ! وہ حلق تک جہنم میں ہوگا۔ یہ ممکن ہے کہ اس ہار میں جڑا ہوا سونا اس چھ سو دینار سے زہادہ ہو جس کے بدلے اس کو خریدا گیا تو حضرت عبادہ نے اسی وجہ سے یہ کلام فرمایا اور یہ بھی ممکن ہے اسے ادھار کے طور پر خریدا گیا ہو اور حضرت معاویہ (رض) کے متعلق مروی ہے کہ وہ اس میں کوئی حرج خیال نہ کرتے تھے۔