hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5716

.

الطحاوي

5716
Al Tahawi
۵۷۱۵: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : أَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِیْ ذِئْبٍ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : أُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِطِیْبَۃِ خَرَزٍ فَقَسَمَہَا بَیْنَ الْحُرَّۃِ وَالْأَمَۃِ .قَالَتْ : عَائِشَۃُ وَکَذٰلِکَ کَانَ أَبِیْ یَقْسِمُ لِلْحُرِّ وَالْعَبْدِ .فَکَانَ ہَذَا مِمَّا کَانَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَفْعَلُہٗ یَعُمُّ بِعَطَایَاہُ جَمِیْعَ أَہْلِہِ حُرِّہِمْ وَعَبْدِہِمْ لَیْسَ عَلٰی أَنَّ ذٰلِکَ وَاجِبٌ وَلٰـکِنَّہٗ أَحْسَنُ مِنْ غَیْرِہٖ۔ فَکَذٰلِکَ کَانَتْ مَشُوْرَتُہٗ فِی الْوَلَدِ أَنْ یُسَوِّیَ بَیْنَہُمْ فِی الْعَطِیَّۃِ لَیْسَ عَلٰی أَنَّہٗ وَاجِبٌ وَلَا عَلٰی أَنَّ غَیْرَہُ اِنْ فَعَلَ لَمْ یَثْبُتْ .وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ .وَقَدْ فَضَّلَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہُمْ بَعْضَ أَوْلَادِہِمْ عَلَی بَعْضٍ فِی الْعَطَایَا .
٥٧١٥: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ آپ کے پاس شفاف موتی آئے تو آپ نے آزاد و حر کی تفریق کے بغیر ان کو تقسیم فرما دیا۔ حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں میرے والد صاحب بھی اسی طرح تقسیم فرماتے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ طرز عمل اس لیے تھا تاکہ تمام اہل کو آپ کے عطیات عام ہوں خواہ وہ غلام ہو یا آزاد۔ یہ تقسیم واجب تو نہ تھی مگر اعلیٰ ضرور تھی پس اسی طرح آپ کا مشورہ مبارک اولاد کے سلسلہ میں عطیات میں تسویہ و برابری اس طور پر نہ تھا کہ یہ فرض واجب ہے اور نہ اس طور پر تھا کہ اگر اس کے علاوہ کیا جائے تو وہ نافذ نہ ہوگا۔ یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا قول ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الامارہ باب ١٣‘ مسند احمد ٦‘ ١٥٦؍١٥٩‘ ٢٣٨۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ طرز عمل اس لیے تھا تاکہ تمام حقداروں کو آپ کے عطیات عام ہوں خواہ وہ غلام ہو یا آزاد۔ یہ تقسیم واجب تو نہ تھی مگر اعلیٰ ضرور تھی پس اسی طرح آپ کا مشورہ مبارک اولاد کے سلسلہ میں عطیات میں تسویہ و برابری اس طور پر نہ تھا کہ یہ فرض واجب ہے اور نہ اس طور پر تھا کہ اگر اس کے علاوہ کیا جائے تو وہ نافذ نہ ہوگا۔