hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5805

.

الطحاوي

5805
Al Tahawi
۵۸۰۴: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْہَالِ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ذُرَیْعٍ قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ عَنْ یَعْلَی بْنِ حَکِیْمٍ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : کُنَّا نُحَاقِلُ عَلَی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْمُحَاقَلَۃُ : أَنْ یُکْرِیَ الرَّجُلُ أَرْضَہُ بِالثُّلُثِ أَوْ الرُّبُعِ أَوْ طَعَامٍ مُسَمًّی .فَبَیْنَا أَنَا ذَاتَ یَوْمٍ اِذْ أَتَانِیْ بَعْضُ عُمُوْمَتِیْ فَقَالَ : نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا فَطَاعَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْفَعُ قَالَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَمْنَحْہَا أَخَاہُ وَلَا یُکْرِیہَا بِثُلُثٍ وَلَا بِرُبُعٍ وَلَا بِطَعَامٍ مُسَمًّی .فَبَیَّنَ رَافِعُ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ کَیْفَ کَانُوْا یُزَارِعُوْنَ فَرَجَعَ مَعْنَی حَدِیْثِہِ اِلَی مَعْنَیْ حَدِیْثِ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَثَبَتَ أَنَّ النَّہْیَ فِی الْحَدِیْثَیْنِ جَمِیْعًا اِنَّمَا کَانَ لِأَنَّ کُلَّ فَرِیْقٍ مِنْ أَرْبَابِ الْأَرْضِیْنَ وَالْمُزَارِعِیْنَ کَانَ یَخْتَصُّ بِطَائِفَۃٍ مِنَ الْأَرْضِ فَیَکُوْنُ لَہٗ مَا یَخْرُجُ مِنْہَا مِنْ زَرْعٍ اِنْ سَلِمَ فَلَہٗ وَاِنْ عَطِبَ فَعَلَیْہِ وَہٰذَا مِمَّا أُجْمِعَ عَلَی فَسَادِہٖ۔ فَہٰذَا قَدْ خَرَّجَ مَعْنَیْ حَدِیْثِ رَافِعٍ عَلٰی أَنَّ النَّہْیَ الْمَذْکُوْرَ فِیْہِ کَانَ لِلْمَعْنَی الَّذِی وَصَفْنَا لَا لِاِجَارَۃِ الْأَرْضِ بِجُزْئٍ مِمَّا یَخْرُجُ مِنْہَا .وَقَدْ أَنْکَرَ آخَرُوْنَ عَلٰی رَافِعٍ مَا رَوَی مِنْ ذٰلِکَ وَأَخْبَرُوْا أَنَّہٗ لَمْ یَحْفَظْ أَوَّلَ الْحَدِیْثِ .
٥٨٠٤: سلیمان بن یسار نے حضرت رافع (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں بیع محاقلہ کرتے یعنی کوئی آدمی اپنی زمین ثلث ‘ ربع یا مقرر غلہ کے بدلے کرایہ پر دیتا۔ تو حضرت رافع (رض) نے اس روایت میں واضح فرما دیا کہ وہ کس طرح کی مزارعت کرتے تھے پس اس روایت کا مفہوم حضرت جابر (رض) کی روایت کے مفہوم کی طرف لوٹ گیا اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دونوں روایات میں جو ممانعت وارد ہے۔ وہ اس لحاظ سے ہے کہ زمین کے مالک اور کھیتی باڑی کرنے والے کے لیے زمین کا ایک حصہ مختص ہوجاتا ہے اور اس کو وہی غلہ ملتا ہے جو اس حصہ زمین سے پیدا ہو۔ اگر وہ محفوظ رہ گیا تو اس کا حصہ مل گیا اور اگر ضائع ہوجائے تو اسی کا نقصان ہوگا اور اس طرز عمل کے غلط ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے۔ اس سے حضرت رافع (رض) کی روایت کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ اس میں جس ممانعت کا تذکرہ ہے اس کا سبب وہی مفہوم ہے جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے یہ مفہوم نہیں کہ زمین کو اس کی پیداوار کے کسی حصہ کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔ بعض لوگوں نے حضرت رافع (رض) کی روایت کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو حدیث کا پہلا حصہ یاد نہیں رہا۔
ایک دن میں اسی حال میں تھا کہ میرے ایک چچا میرے پاس آئے اور کہنے لگے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کام سے منع کردیا ہے جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا مگر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت سب سے زیادہ نفع بخش ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ جس کی زمین ہو وہ اپنے بھائی کو بطور عطیہ دے اور ثلث ‘ ربع یا مقررہ غلہ کے بدلے کرایہ پر نہ دے۔
تخریج : مسلم فی البیوع ١١٣‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ١٢‘ مسند احمد ٣؍٤٦٥۔
حاصل روایت : تو حضرت رافع (رض) نے اس روایت میں واضح فرما دیا کہ وہ کس طرح کی مزارعت کرتے تھے پس اس روایت کا مفہوم حضرت جابر (رض) کی روایت کے مفہوم کی طرف لوٹ گیا اور یہ بھی ثابت ہوگیا کہ دونوں روایات میں جو ممانعت وارد ہے۔ وہ اس لحاظ سے ہے کہ زمین کے مالک اور کھیتی باڑی کرنے والے کے لیے زمین کا ایک حصہ مختص ہوجاتا ہے اور اس کو وہی غلہ ملتا ہے جو اس حصہ زمین سے پیدا ہو۔ اگر وہ محفوظ رہ گیا تو اس کا حصہ مل گیا اور اگر ضائع ہوجائے تو اسی کا نقصان ہوگا اور اس طرز عمل کے غلط ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے۔
مزید توضیح : اس سے حضرت رافع (رض) کی روایت کا معنی بھی واضح ہوگیا کہ اس میں جس ممانعت کا تذکرہ ہے اس کا سبب وہی مفہوم ہے جس کو ہم نے اوپر بیان کیا ہے یہ مفہوم نہیں کہ زمین کو اس کی پیداوار کے کسی حصہ کے بدلے کرایہ پر دینا جائز نہیں۔
ایک اور جماعت کا حدیث رافع پر اشکال :
بعض لوگوں نے حضرت رافع (رض) کی روایت کا انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ان کو حدیث کا پہلا حصہ یاد نہیں رہا۔
روایت زید بن ثابت (رض) :