hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5806

.

الطحاوي

5806
Al Tahawi
۵۸۰۵: فَحَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ شَیْبَۃَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی قَالَ : ثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنْ أَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمَّارٍ عَنِ الْوَلِیْدِ بْنِ أَبِی الْوَلِیْدِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ زَیْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّہٗ قَالَ : یَغْفِرُ اللّٰہُ لِرَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ أَنَا وَاللّٰہِ کُنْتُ أَعْلَمَ بِالْحَدِیْثِ مِنْہُ اِنَّمَا جَائَ رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ اقْتَتَلَا .فَقَالَ اِنْ کَانَ ہٰذَا شَأْنَکُمْ فَلَا تَکْرُوْا الْمَزَارِعَ فَسَمِعَ قَوْلَہٗ لَا تَکْرُوْا الْمَزَارِعَ .فَہٰذَا زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یُخْبِرُ أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَکْرُوْا الْمَزَارِعَ النَّہْیُ الَّذِی قَدْ سَمِعَہُ رَافِعٌ لَمْ یَکُنْ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی وَجْہِ التَّحْرِیْمِ اِنَّمَا کَانَ لِکَرَاہِیَۃِ وُقُوْعِ السُّوْئِ بَیْنَہُمْ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ .
٥٨٠٥: عروہ بن زبیر نے حضرت زید بن ثابت (رض) سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ رافع کی مغفرت فرمائے اللہ کی قسم میں ان سے زیادہ اس حدیث کو جاننے والا ہوں انصار کے دو آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے جنہوں نے باہمی لڑائی کی تھی۔ تو آپ نے فرمایا اگر تمہارا یہی حال ہے تو کھیتوں کو مت کرائے پر دو ۔ تو رافع (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد فقط ” لاتکروا المزارع “ سنا۔ (گویا ان کو اس کے ماسبق و مابعد کی بات معلوم نہیں تھی) یہ حضرت زید بن ثابت (رض) بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” لاتکروا المزارع “ رافع نے جس نہی کو سنا ہے وہ حرمت کے لیے نہیں بلکہ باہمی لوگوں میں نزاع اور خرابی ہونے کی وجہ سے اس کو ناپسند قرار دیا۔ روایت ابن عباس (رض) بھی اس سلسلہ میں گویا ہے۔
تخریج : مسند احمد ٥‘ ١٨٢؍١٨٧۔
حاصل روایت : یہ حضرت زید بن ثابت (رض) بتلا رہے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ” لاتکروا المزارع “ رافع نے جس نہی کو سنا ہے وہ حرمت کے لیے نہیں بلکہ باہمی لوگوں میں نزاع اور خرابی ہونے کی وجہ سے اس کو ناپسند قرار دیا۔ روایت ابن عباس (رض) بھی اس سلسلہ میں گویا ہے۔