۵۸۰۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ عَنْ طَاوُسٍ قَالَ : قُلْتُ لَہٗ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ لَوْ تَرَکْت الْمُخَابَرَۃَ فَاِنَّہُمْ یَزْعُمُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَہٰی عَنْہَا .فَقَالَ أَخْبَرَنِیْ أَعْلَمُہُمْ یَعْنِی ابْنَ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَنْہَ عَنْہَا وَلٰـکِنَّہٗ قَالَ لَأَنْ یَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ أَرْضَہُ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ أَنْ یَأْخُذَ عَلَیْہَا خَرَاجًا مَعْلُوْمًا .
٥٨٠٦: عمرو بن دینار نے طاوس سے روایت کی ہے کہ میں نے ان کو کہا اے ابو عبدالرحمن ! اگر تم مخابرہ کو ترک کردیتے (تو مناسب تھا) کیونکہ ان حضرات کا خیال ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی ممانعت فرمائی ہے انھوں نے کہا مجھے ان میں سے سب سے زیادہ علم والے یعنی ابن عباس (رض) نے بتلایا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو (زمین کا) عطیہ دے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی مقرر اجرت لے۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٠‘ مسلم فی البیوع ١٢٠؍١٢٣‘ ابو داؤد فی البیوع باب ٣٠‘ ابن ماجہ فی الرہوں مسند احمد ١‘ ٢٣٤؍٣١٣۔