hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5808

.

الطحاوي

5808
Al Tahawi
۵۸۰۷: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرٍو فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَبَیَّنَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَنَّ مَا کَانَ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ لَمْ یَکُنْ لِلنَّہْیِ وَاِنَّمَا أَرَادَ الرِّفْقَ بِہِمْ .وَقَدْ یُحْتَمَلُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ کَرِہَ لَہُمْ أَخْذَ الْخَرَاجِ لِمَا وَقَعَ بَیْنَ الرَّجُلَیْنِ فِیْ حَدِیْثِ زَیْدٍ فَقَالَ لَأَنْ یَمْنَحَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ أَرْضَہُ خَیْرٌ لَہٗ مِنْ أَنْ یَأْخُذَ عَلَیْہَا خَرَاجًا مَعْلُوْمًا لِأَنَّ مَا کَانَ وَقَعَ بَیْنَ ذَیْنِک الرَّجُلَیْنِ مِنِ الشَّرِّ اِنَّمَا کَانَ فِی الْخَرَاجِ الْوَاجِبِ لِأَحَدِہِمَا عَلٰی صَاحِبِہٖ فَرَأَی أَنَّ الْمَنِیْحَۃَ الَّتِیْ لَا تُوْجِبُ بَیْنَہُمْ شَیْئًا مِنْ ذٰلِکَ خَیْرٌ لَہُمْ مِنَ الْمُزَارَعَۃِ الَّتِیْ تُوْقِعُ بَیْنَہُمْ مِثْلَ ذٰلِکَ .وَقَدْ جَائَ بَعْضُہُمْ بِحَدِیْثِ رَافِعٍ عَلَی لَفْظِ حَدِیْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ ہٰذَا .
٥٨٠٧: سفیان نے عمرو سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت اسی طرح ذکر کی ہے۔ اس روایت میں ابن عباس (رض) نے بتلایا آپ نے جو ممانعت فرمائی وہ شفقت کے طور پر ہے وہ ممانعت حرمت کے لیے نہیں کہ آپ نے اجرت کا لینا ناپسند کیا ہو جس کی وجہ سے ان دو آدمیوں کے درمیان جھگڑا پیدا ہوا جن کا ذکر حضرت زید (رض) کی روایت میں آیا ہے اسی لیے آپ نے فرمایا اگر تم میں سے ایک دوسرے بھائی کو زمین بطور عطیہ دے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس زمین پر مقررہ خراج حاصل کرے۔ کیونکہ ان دو آدمیوں میں اختلاف کا سبب یہی مقررہ اجرت تھی جو ایک کے ذمہ دوسرے کا حق تھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیکھا کہ وہ عطیہ جو ان کے درمیان کوئی چیز واجب نہ کرے وہ اس مزارعت سے بہت بہتر ہے جو ان کے مابین نزاع کا باعث ہو اور حضرت رافع (رض) کی روایت بھی حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کے موافق ہے۔ ابن عباس (رض) کی روایت جو روایت رافع کے موافق ہے۔
حاصل روایت : اس روایت میں ابن عباس (رض) نے بتلایا آپ نے جو ممانعت فرمائی وہ شفقت کے طور پر ہے وہ ممانعت حرمت کے لیے نہیں۔