hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5809

.

الطحاوي

5809
Al Tahawi
۵۸۰۸: حَدَّثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَیْسَرَۃَ قَالَ : سَمِعْت مُجَاہِدًا عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ : نَہَانَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا وَأَمَرَنَا بِخَیْرٍ مِنْہُ فَقَالَ مَنْ کَانَتْ لَہٗ أَرْضٌ فَلْیَزْرَعْہَا أَوْ یَمْنَحْہَا .قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِطَاوُسٍ فَقَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ اِنَّمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَمْنَحُہَا أَخَاہُ خَیْرٌ لَہٗ أَوْ یَمْنَحُہَا خَیْرٌ .فَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ وَجْہُ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَلٰی ذٰلِکَ أَیْضًا فَیَکُوْنُ قَوْلُہٗ نَہَانَا عَنْ أَمْرٍ کَانَ لَنَا نَافِعًا یُرِیْدُ مَا ذَکَرَ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ رَافِعًا سَمِعَہُ وَأَمَرَنَا بِکَذَا مَا حَکَاہُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَلَمْ یَکُنْ فِیْ جَمِیْعِ مَا سَمِعَ فِی الْحَقِیْقَۃِ نَہْیٌ لِکِرَائِ الْأَرْضِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ أَیْضًا فِی النَّہْیِ عَنْ ذٰلِکَ أَنَّہٗ اِنَّمَا کَانَ لِبَعْضِ الْمَعَانِی الَّتِیْ تَقَدَّمَ ذِکْرُنَا لَہَا ..
٥٨٠٨: مجاہد نے رافع (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایسی بات سے منع فرمایا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھی اور ہمیں اس سے بہت ہی بہتر کا حکم فرمایا آپ نے فرمایا جس کی زمین ہو وہ اس کو خود کاشت کرے یا کسی کو عطیہ کے طور پردے دے۔ اس روایت میں بھی وہی مفہوم محتمل ہے کہ حضرت رافع کے قول کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں ایسے کام سے روک دیا جو ہمارے لیے فائدہ مند تھا سے مراد وہی بات ہے جو حضرت زید بن ثابت (رض) نے ذکر کی کہ حضرت رافع نے اتنی بات سنی اور حکم دے دیا جیسا کہ ابن عباس (رض) سے نقل کیا گیا تو جو سنا اس میں حقیقۃً زمین کو تہائی یا چوتھائی پیداوار پر کرایہ پر دینے کی ممانعت نہیں تھی اس مفہوم کی سعد بن ابی وقاص اور ابن عمر (رض) سے بھی روایات آئی ہیں اور ان میں بھی وہی وجود مراد ہیں جن کا تذکرہ ہوچکا۔
میں نے یہ بات طاوس کے سامنے ذکر کی تو انھوں نے کہا حضرت ابن عباس (رض) اسے اپنے بھائی کو عطیہ دینا بہت بہتر ہے یا عطیہ دے دینا بہت بہتر ہے (کوئی ایک لفظ فرمایا) ۔
تخریج : بخاری فی الحرث باب ١٨‘ مسلم فی البیوع ٩٨‘ مسند احمد ٣؍٣٥٤‘ ابن ماجہ فی الرہوں باب ٧‘ ترمذی فی الاحکام باب ٤٢‘ نسائی فی الایمان باب ٤٥۔
روایت سعد بن ابی وقاص اور ابن عمر (رض) :