۵۸۲۴: وَحَدَّثَنَا أَبُو أُمَیَّۃَ قَالَ : أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ مِثْلَہٗ۔فَفِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ دَفَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَیْبَرَ بِالنِّصْفِ مِنْ ثَمَرِہَا وَزَرْعِہَا .فَقَدْ ثَبَتَ بِذٰلِکَ جَوَازُ الْمُزَارَعَۃِ وَالْمُسَاقَاۃِ وَلَمْ یُضَادَّ ذٰلِکَ مَا قَدْ تَقَدَّمَ ذِکْرُنَا لَہٗ مِنْ حَدِیْثِ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ وَرَافِعٍ وَثَابِتٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا لِمَا ذَکَرْنَا مِنْ حَقَائِقِہَا .فَاحْتَجَّ مُحْتَجٌّ فِیْ ذٰلِکَ فَقَالَ : قَدْ عُوْرِضَتْ ہٰذِہِ الْآثَارُ أَیْضًا بِمَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنَ النَّہْیِ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ تَکُوْنَ مِمَّا قَدْ وَصَفْنَا ذٰلِکَ فِی بَابِ بَیْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ یَبْدُوَ صَلَاحُہَا .قَالَ : فَاِذَا نَہَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْاِبْتِیَاعِ بِالثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ تَکُوْنَ دَخَلَ فِیْ ذٰلِکَ الْاِسْتِئْجَارُ بِہَا قَبْلَ أَنْ تَکُوْنَ فَکَمَا کَانَ الْبَیْعُ بِہَا قَبْلَ کَوْنِہَا بَاطِلًا کَانَ الْاِسْتِئْجَارُ بِہَا قَبْلَ کَوْنِہَا أَیْضًا کَذٰلِکَ .أَلَا تَرَی أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَہٰی عَنْ بَیْعِ مَا لَیْسَ عِنْدَک ؟ فَکَانَ الْاِسْتِئْجَارُ بِذٰلِکَ غَیْرَ جَائِزٍ اِذْ کَانَ الْاِبْتِیَاعُ بِہٖ غَیْرَ جَائِزٍ فَکَذٰلِکَ لَمَّا کَانَ الْاِبْتِیَاعُ بِمَا لَمْ یَکُنْ غَیْرَ جَائِزٍ کَانَ الْاِسْتِئْجَارُ بِہٖ أَیْضًا غَیْرَ جَائِزٍ .قِیْلَ لَہٗ : اِنَّہٗ لَوْ لَمْ یَرْوِ فِیْ ہٰذِہِ الْآثَارِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا فِیْ اِجَارَۃِ الْمُزَارَعَۃِ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ لَکَانَ الْأَمْرُ عَلٰی مَا ذَکَرْت .وَلٰـکِنْ لِمَا رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِبَاحَتُہَا وَعَمِلَ بِہَا الْمُسْلِمُوْنَ بَعْدَہُ وَاحْتَمَلَ أَنْ لَا یَکُوْنَ الْاِسْتِئْجَارُ بِمَا لَمْ یَکُنْ دَاخِلًا فِی الْاِبْتِیَاعِ بِمَا لَمْ یَکُنْ وَیَکُوْنُ مُسْتَثْنًی مِنْ ذٰلِکَ وَاِنْ لَمْ یُبَیِّنْ فِی الْحَدِیْثِ .کَمَا أُبِیْحَ السَّلَمُ وَلَمْ یُحَرِّمْہُ النَّہْیُ عَنْ بَیْعِ مَا لَیْسَ عِنْدَکَ وَاِنَّمَا وَقَعَ النَّہْیُ فِیْ ذٰلِکَ عَلَی بَیْعِ مَا لَیْسَ عِنْدَک غَیْرَ السَّلَمِ .فَکَذٰلِکَ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ النَّہْیُ عَنْ بَیْعِ الثِّمَارِ قَبْلَ أَنْ تَکُوْنَ ذٰلِکَ عَلٰی مَا سِوَی الْمُزَارَعَۃِ بِہَا وَالْمُسَاقَاۃِ عَلَیْہَا .وَقَدْ عَمِلَ بِالْمُزَارَعَۃِ وَالْمُسَاقَاۃِ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ بَعْدِہٖ۔
٥٨٢٤: ابوالزبیر نے حضرت جابر (رض) سے اسی طرح کی روایت کی ہے۔ ان روایات سے ثابت ہو رہا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خیبر کی زمین ‘ پھل اور کھیتی کے نصف پر یہود کے حوالہ فرمائی اس سے مزارعت اور مساقات کا جواز ثابت ہوگیا سابقہ روایات میں کوئی بھی ان کے متضاد نہیں۔ خواہ وہ حدیث جابر ہو یا رافع و ثابت (رض) اس لیے کہ ہم نے ان کی حقیقت ذکر کردی۔ یہ مندرجہ بالا آثار جو جواز مزارعت میں پیش کئے گئے نہی کی روایات ان کے معارض ہیں۔ آپ نے پھلوں کی بیع پھل بننے سے پہلے اور ان کی درستی ظاہر ہونے سے پہلے ممنوع فرمائی ہے۔ جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھل کو پھل بننے سے پہلے فروخت سے منع فرمایا تو اس میں ان کو اجارہ پر حاصل کرنا بھی شامل ہے جبکہ ابھی پھل بنا نہ ہو۔ جب پھل بننے سے پہلے بیع باطل ہے تو اجارہ پر لینا بھی بننے سے پہلے باطل ہوا۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے جو تمہارے پاس نہ ہو ؟ اور ایسی چیز کو اجارہ پر حاصل کرنا بھی ناجائز ہے جبکہ اس کی خریدو فروخت ناجائز ہے تو استیجار بھی ناجائز ہے۔ اگر مندرجہ بالا آثار میں مزارعت کا کھلا جواز نہ ملتا تو بات اسی طرح تھی جو آپ نے ذکر فرمائی۔ لیکن جب جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کی اباحت مروی ہے اور اس پر مسلمان عمل پیرا ہیں جو پھل ابھی تک مکمل بنا نہیں ممکن ہے کہ اس کا استیجار اس بیع کے تحت داخل نہ ہو جو نامکمل پھل کی ممنوع ہے بلکہ اس سے مستثنیٰ ہو۔ اگرچہ حدیث میں وضاحت نہیں۔ اس کی نظیر بیع سلم ہے کہ وہ مباح ہے۔ اس کی بیع اس بیع میں شامل نہیں جو ان چیزوں کی کی جائے جو تمہارے پاس موجود نہ ہوں تو اس چیز کی بیع جو تمہارے پاس موجود نہیں وہ بیع سلم کے علاوہ ہے۔ بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ پھلوں کی بیع مکمل ہونے سے پہلے مزارعت و مساقاۃ کے علاوہ ممنوع ہو۔
بالکل اسی طرح ممکن ہے کہ پھلوں کی بیع مکمل ہونے سے پہلے مزارعت و مساقاۃ کے علاوہ ممنوع ہو۔
عمل صحابہ کرام (رض) سے مزارعت کا ثبوت :