hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 5878

.

الطحاوي

5878
Al Tahawi
۵۸۷۷: فَذَکَرَ مَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ سَالِمٍ قَالَ : ثَنَا ہُشَیْمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ عَنْ مَنْصُوْرِ بْنِ أَبِیْ ثَعْلَبَۃَ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : قَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ لَا مُکَائَلَۃَ اِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ فَلَا شُفْعَۃَ .قِیْلَ لَہٗ : قَدْ رُوِیَ ہٰذَا عَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَمَا ذَکَرْتُ وَلَیْسَ فِیْہِ - عِنْدَنَا - حُجَّۃٌ لَک لِأَنَّہٗ قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِذٰلِکَ : اِذَا حُدَّتِ الْحُدُوْدُ مِنَ الْحُقُوْقِ کُلِّہَا وَأُدْخِلَ الطَّرِیْقُ فِیْ ذٰلِکَ فَیَکُوْنُ ذٰلِکَ مُوَافِقًا لِمَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ اِذَا وَقَعَتِ الْحُدُوْدُ وَصُرِفَتْ الطُّرُقُ فَلَا شُفْعَۃَ .وَلَوْ کَانَ عَلٰی مَا تَأَوَّلْتُمُوْھُ عَلَیْہِ لَکَانَ قَدْ خَالَفَہُ فِیْ ذٰلِکَ سَعْدُ بْنُ أَبِیْ وَقَّاصٍ وَالْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ وَأَبُو رَافِعٍ فِیْمَا قَدْ رَوَیْنَاہٗ عَنْہُمْ فِیْمَا مَضَی مِنْ ہٰذَا الْبَابِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْضًا فِیْ ذٰلِکَ
٥٨٧٧: منصور بن ابی ثعلبہ نے ابان بن عثمان (رح) سے نقل کیا کہ حضرت عثمان (رض) نے فرمایا جب حدود واقع ہوجائیں تو حق والے کا حق نہ روکا جائے اور نہ شفعہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ قول حضرت عثمان (رض) سے اس طرح بھی مروی ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا اور اس میں بھی تمہاری دلیل موجود نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جب حدود مقرر ہوجائیں یعنی تمام حقوق کی اور اس میں راستہ بھی ڈال دیا جائے۔ (تو اس وقت شفعہ نہیں) تو یہ روایت تو ہماری روایت کے موافق بن گئی جیسا کہ جابر (رض) کی روایت مذکور ہوئی۔ (اذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعۃ) اگر بقول آپ کے اس کی تاویل وہی ہو جو آپ کر رہے ہیں تو روایات سعد اور مسور بن مخرمہ اور ابو رافع (رض) اس کے خلاف ہوں گی۔ حضرت عمر (رض) سے بھی اس بارے میں مروی ہے۔
جواب : یہ قول حضرت عثمان (رض) سے اس طرح بھی مروی ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا اور اس میں بھی تمہاری دلیل موجود نہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اس سے مراد یہ ہو کہ جب حدود مقرر ہوجائیں یعنی تمام حقوق کی اور اس میں راستہ بھی ڈال دیا جائے۔ (تو اس وقت شفعہ نہیں) تو یہ روایت تو ہماری روایت کے موافق بن گئی جیسا کہ جابر (رض) کی روایت مذکور ہوئی۔ (اذا وقعت الحدود وصرفت الطرق فلا شفعۃ) اگر بقول آپ کے اس کی تاویل وہی ہو جو آپ کر رہے ہیں تو روایات سعد اور مسور بن مخرمہ اور ابو رافع (رض) اس کے خلاف ہوں گی۔
روایت حضرت عمر (رض) :