۵۸۸۷: فِیْمَا حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ جَمِیْعًا قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِیَّۃَ عَنْ أَبِیْ کَبْشَۃَ السَّلُوْلِیِّ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّہٗ قَالَ : قَدْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً مِنْ کِتَابِ اللّٰہِ وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ فِیْ ذٰلِکَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ .فَأَوْجَبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ عَلٰی أُمَّتِہِ التَّبْلِیغَ عَنْہُ .ثُمَّ قَدْ فَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ التَّبْلِیغِ عَنْہُ وَالْحَدِیْثِ عَنْ غَیْرِہِ فَقَالَ وَحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ وَلَا حَرَجَ أَیْ : وَلَا حَرَجَ عَلَیْکُمْ فِیْ أَنْ لَا تُحَدِّثُوْا عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ .فَالْاِسْتِجْعَالُ عَلٰی ذٰلِکَ اسْتِجْعَالٌ عَلَی الْفَرْضِ وَمَنِ اسْتَجْعَلَ جُعْلًا عَلَی عَمَلٍ یَعْمَلُہُ فِیْمَا افْتَرَضَ اللّٰہُ عَمَلَہٗ عَلَیْہِ فَذٰلِکَ عَلَیْہِ حَرَامٌ لِأَنَّہٗ اِنَّمَا یَعْمَلُہُ لِنَفْسِہٖ لِیُؤَدِّیَ بِہٖ فَرْضًا عَلَیْہِ .وَمَنِ اسْتَجْعَلَ جُعْلًا عَلَی عَمَلٍ یَعْمَلُہُ لِغَیْرِہِ مِنْ رُقْیَۃٍ أَوْ غَیْرِہَا وَاِنْ کَانَتْ بِقُرْآنٍ أَوْ عِلَاجٍ أَوْ مَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ فَذٰلِکَ جَائِزٌ وَالْاِسْتِجْعَالُ عَلَیْہِ حَلَالٌ .فَیَصِحُّ بِمَا ذَکَرْنَا مَعَانِیْ مَا قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْبَابِ مِنَ النَّہْیِ وَمِنَ الْاِبَاحَۃِ وَلَا یَتَضَادَّ ذٰلِکَ فَیَتَنَافَی .وَہٰذَا کُلُّہٗ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .
٥٨٨٧: ابو کبشہ سلولی نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔” بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ آیَۃً ۔۔۔ “ کہ ایک آیت قرآن بھی ہو تو وہ بھی میری طرف سے پہنچاؤ اور بنی اسرائیل کی باتیں نقل کرنے میں حرج نہیں اور جس نے مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولا : (فَلْیَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ) تو اسے اپنا ٹھکانا جہنم بنا لینا چاہیے۔ اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امت پر تبلیغ کو لازم فرمایا۔ پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آپ کی طرف سے بات کے پہنچانے اور دوسروں سے بات نقل کرنے میں فرق کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا۔ بنی اسرائیل سے بات بیان کرنے میں حرج نہیں یعنی تم پر ان سے بیان نہ کرنے میں کچھ گناہ نہیں۔ پس اس پر انعام و اجرت کو طلب کرنا جو کہ اس پر فرض ہے تو یہ فرض پر اجرت کو چاہنا ہے جو کہ اس پر حرام ہے کیونکہ وہ اپنی ذات کے لیے عمل کرنا ہے تاکہ فریضہ کی ادائیگی ہو اور جو عمل دوسرے کے لیے کیا جائے مثلاً جھاڑ پھونک وغیرہ اگرچہ قرآن مجید کی آیات سے ہو یا علاج وغیرہ اس پر اجرت جائز ہے اور حلال ہے۔ اس بات کو سامنے رکھنے سے آثار مذکورہ کے معانی درست ہوجاتے ہیں اور ان میں منافات اور تضاد نہیں رہتا۔ یہ تمام امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : بخاری فی احادیث الانبیاء باب ٥٠‘ ترمذی فی العلم باب ١٣‘ دارمی فی المقدمہ باب ٤٦‘ مسند احمد ٢‘ ١٥٩؍٢٠٢۔